کراچی میں بیشتر گوٹھ کی سندیں جعلی جاری کی گئیں، سندھ ہائیکورٹ

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے گلشن معمار میں مبینہ گوٹھ اراضی کے تنازعے سے متعلق درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل سندھ و دیگر کو نوٹس جاری کردیئے۔جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو گلشن معمار میں مبینہ گوٹھ اراضی کے تنازعے سے متعلق حاجی خان بروہی گوٹھ کے مکینوں کو دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواستگزر کے وکیل نے موقف دیا کہ حاجی خان بروہی کے نام پر گوٹھ الاٹ ہوا۔ گوٹھ کیخلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ سرکاری حکام اور لینڈ مافیا کو کارروائی سے روکا جائے۔جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کراچی میں بیشتر گوٹھ کی سندیں جعلی جاری کی گئیں۔ سندھ گوٹھ آباد ایکٹ کا استعمال غلط کیا گیا۔ یہ تو جعلی سندیں لگ رہی ہیں۔ عدالت نے درخواستگزار کے وکیل سے درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کرلیئے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ و دیگر کو نوٹس جاری کردیے۔علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ نے اسٹیل ملز اور حاجی علی محمد جوکھیو گوٹھ کی اراضی پر قبضے کے تنازع سے متعلق درخواست پر گوٹھ آباد اور مختیار کار کو ذاتی حیثیت میں ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو اسٹیل ملز اور حاجی علی محمد جوکھیو گوٹھ کی اراضی پر قبضے کے تنازع سے متعلق کارروائی کیخلاف حاجی علی محمد جوکھیو کے مکینوں کی درخواست پر سماعت ہوئی۔عدالت نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سے مکالمے میں کہا کہ قبضہ کرنا کس کا کام ہے؟ اسٹیل ملز کی زمینوں پر قبضہ ہورہا ہے آپ کیا کر رہے ہیں؟ مختیار کار اور گوٹھ آباد کیا کر رہے ہیں؟ اسٹیل ملز کی ساری زمینوں پر اس طرح گوٹھ بن جائیں گے۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ مختیار کار نے قرار دیا ہے کہ گوٹھ جعلی ہیں۔ عدالت نے سرکاری وکیل پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر گوٹھ جعلی ہیں تو پھر کیا کارروائی کی؟ جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے مختیار کار اور ڈپٹی کمشنر کو بلا لیتے ہیں۔عدالت نے گوٹھ آباد اور مختیار کار کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے گوٹھ آباد اور مختیار کار کو ذاتی حیثیت میں ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیدیا اور آئندہ سماعت پر متعلقہ حکام سے پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 4 مارچ تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں