ثانیہ مرزا نے ریٹائرمنٹ کی وجوہات بیان کر دیں

بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے ریٹائرمنٹ کے فیصلے کی وجوہات بیان کر دیں۔پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pkکے پروگرام ’’کرکٹ کارنر ود سلیم خالق‘‘ میں گفتگوکرتے ہوئے ثانیہ مرزا نے کہا کہ مختلف عوامل کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں نے رواں سال کے اختتام پر ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا ہے،میں 35 سال کی ہو چکی ہوں، 2،3 سرجریز بھی ہوئیں، بچے کی پیدائش کی وجہ سے بھی جسم پر اثر پڑا،اب کھیل کی سرگرمیوں کے بعد تازہ دم ہونے میں تھوڑی مشکل پیش آتی ہے۔ثانیہ نے بتایا کہ اذلان ابھی بچہ ہے، اس کی کورونا ویکسی نیشن نہیں ہوئی، اس کو ساتھ لے کر جہازوں میں سفر کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں ہوتا،میرے لیے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ آسان نہیں تھا، اس ایک سال میں جسم نے ساتھ دینا شروع کر دیا تو فیصلہ تبدیل بھی کر سکتی ہوں، بہرحال ٹینس میں 19 سال کا طویل سفر رہا ہے، اس دوران جو کچھ حاصل کیا اس پر بہت خوش ہوں۔انھوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ پر دکھ تو ہمیشہ ہوتا ہے،مگر یہ زندگی کی حقیقت ہے، کسی نہ کسی وقت تو کھیل کو خیرباد کہنا ہی پڑے گا، میں 6سال کی عمر سے ٹینس کھیل رہی ہوں، یہ میری زندگی کا اہم حصہ ہے، اگر اس کو خیرباد بھی کہہ دیا تو کسی نہ کسی طرح کھیل سے وابستہ رہوں گی، اپنی اکیڈمی پر توجہ دینے کیلیے وقت ملے گا۔ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر شوہر شعیب ملک کے ردعمل پر انھوں نے کہا کہ میرے والدین سمیت کسی کو معلوم نہیں تھا کہ میں کوئی ایسا فیصلہ کرنے والی ہوں، اس لیے سب کو حیرت بھی ہوئی، بہرحال شعیب میرے ہر فیصلے کو سپورٹ کرتے ہیں، ہم ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے ہیں، ہم دونوں پروفیشنل کھلاڑی ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ جسم کس حدتک چیلنج قبول کرنے کے قابل ہے۔
بائیو بل میں کھیل کو جاری رکھنا سخت چیلنج ہوتا ہے
ثانیہ مرزا نے کہاکہ بائیو بل میں کھیل کو جاری رکھنا سخت چیلنج ہوتا ہے، ٹینس میں تو ببلز ایک سال پہلے ہی ختم کر دیے گئے تھے، اس سے تھوڑی آسانی بھی ہوئی، بچے کو ساتھ رکھتے ہوئے 20 سے25 روز تک ایک ہی کمرے تک محدود رہنا جسمانی اور ذہنی طور پر بہت مشکل تھا،کرکٹ میں تو بائیو ببل اب بھی چل رہے ہیں، لوگوں کو اندازہ نہیں کہ ان حالات میں کھیلنا اور پرفارم بھی دکھانا کتنا بڑا چیلنج ہے، کھلاڑیوں کو جسمانی اور ذہنی طور پر فٹ رہتے ہوئے توقعات کے مطابق پرفارم کرنے کے سخت دباؤ کا سامنا ہوتا ہے۔
شعیب فٹنس کے حوالے سے دوسروں کیلیے مثال،2 سال کھیل سکتے ہیں
ثانیہ مرزا نے کہا کہ شعیب ملک فٹنس کے حوالے سے دوسروں کیلیے ایک مثال ہیں،انھوں نے کرکٹ میں چیلنجز کیلیے خود کو تیار رکھنے کی خاطر ہمیشہ سخت محنت کی،وہ خوش قسمت ہیں کہ ان کے جسم نے بھی ابھی تک بہت اچھا ساتھ دیا ہے۔ ایک صحتمندانہ زندگی گزارنے کے حوالے سے ان کا طرز عمل دوسروں کیلیے مثال ہے،وہ مزید 2برس کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔انھوں نے کہاکہ مجھے پاکستان میں ہمیشہ بہت زیادہ پیار ملا، میں پی ایس ایل کے میچز دیکھنا چاہتی تھی مگر 14 فروری سے دبئی میں ٹینس ٹورنامنٹ شروع ہو رہا ہے،بیٹے اذلان کو اسکول بھی جانا ہوتا ہے،پی ایس ایل میں فیملیز کو ساتھ رہنے کی اجازت بھی نہیں مگرمیں ہمیشہ پاکستان میں اپنے قیام اور میچز سے ہمیشہ لطف اندوز ہوئی ہوں۔
شادی کے بعد شعیب ملک میں تبدیلی کا کریڈٹ نہیں لینا چاہتی
ثانیہ مرزا نے کہا ہے کہ شادی کے بعد شعیب ملک میں تبدیلی کا میں کریڈٹ نہیں لینا چاہتی، ہو سکتا ہے کہ وقت کے ساتھ ان کی شخصیت میں خود ہی مثبت تبدیلی آتی گئی ہو، بہرحال اگر ایسا ہوا بھی تو میرے لیے خوشی کی بات ہے، شاہانہ انداز میں شادی کے بارے میں آج سوچیں تو ہنسی بھی آ جاتی ہے، دونوں ملکوں میں ہمیں بہت زیادہ پیار ملتا رہا، 12 سال قبل شادی پر جو ماحول بناکمرے میں بیٹھ کر اس پر بات کریں تو ہنسی آ جاتی ہے۔
وہاب اورامام سے اچھی دوستی ہے
ثانیہ مرزا نے کہا کہ میری سب سے پرانی دوستی وہاب ریاض سے ہے، ان کی اہلیہ سے بھی اچھی گپ شپ ہوتی ہے، امام الحق عمر میں چھوٹا مگر اس سے بھی خوب بنتی ہے، پشاور زلمی کے بعد میری دوسری پسندیدہ ٹیم کراچی کنگز ہے، سلمان اقبال اچھے دوست بن چکے ہیں، بابر اعظم اور عماد وسیم بھی اچھے دوست ہیں۔
اسٹارز کیلیے اپنے بچے کو میڈیا سے چھپا کر رکھنا انتہائی مشکل ہوتا ہے
ثانیہ مرزا نے کہا کہ ہم نے6 ماہ تک کسی کو اپنے بیٹے کی صورت نہ دیکھنے دی مگر اسٹارز کیلیے اپنے بچے کو میڈیا سے چھپا کر رکھنا انتہائی مشکل ہے، ماں اور باپ دونوں اسٹارز ہوں تو ہر جگہ تصاویر بنتی ہیں،مثال کے طور پر لاہور ایئرپورٹ پر صبح 6 بجے کی پرواز تھی مگر میڈیا موجود تھا، بچہ سو رہا تھا،فوٹوگرافرز سے اذہان کو چھپانا مشکل تھا، بچے کو نظر لگنے کی بات تو ایک طرف سوشل میڈیا پر بھی مختلف طرح کی باتیں ہوتی ہیں،اس کا بطور ماں مجھے ڈر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ نے دیکھا ہو گا کہ کس طرح کوہلی اور انوشکا شرما کواپنی بیٹی کا چہرہ فوٹو گرافرز سے چھپانے میں مشکل ہوتی ہے، وہ بہت اچھے انداز میں یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں مگر یہ بڑا مشکل ہو جاتا ہے، اسپورٹس اسٹارز کے طور پر یہ زندگی ہم نے منتخب کی ہے، بچے نے نہیں مگر کئی پرستار تو اس کے ساتھ تصویر بنانے پر اصرار کرتے ہیں، میچز کے دوران ٹی وی پر تصویر آجائے تو ایک معمول کی بات ہے مگر ہر موقع پر ایسی صورتحال پیدا نہ ہو اس سے بیٹے کو بچا کر رکھنا بطور ماں میرا فرض ہے۔
شوبز میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں لیکن زندگی میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا
ثانیہ مرزا نے کہا ہے کہ شعیب ملک کی بات تو نہیں کرسکتی مگر میرا شوبز میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں، اداکاری کیلیے کیمرے کے سامنے آنے کیلیے جس جرات کی ضرورت ہوتی ہے وہ مجھ میں نہیں، فی الحال نہیں لگتا کہ میرا اداکاری یا شوبز میں کوئی مستقبل ہے لیکن زندگی میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا، شعیب ملک اور میں خود بھی ہمیشہ نئے تجربات سے کچھ دریافت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، پرفیوم لانچ کیا جو بہت اچھا تجربہ رہا، آئندہ ماہ چیٹ شو کی شوٹنگ شروع کریں گے، بائیو پک کیلیے 1،2 لوگوں سے بات چل رہی تھی لیکن کورو نا کی وجہ سے ہر چیز سست روی کا شکار ہے، امید ہے اس ضمن میں جلد مزید پیش رفت ہوگی۔
کپیل شرما سے پرانی دوستی ہے، شو میں ایک دوسرے پر جملے کستے ہیں
ثانیہ مرزا نے کہاکہ کامیڈین کپیل شرما سے میری پرانی دوستی ہے،میری حس مزاح بھی ٹھیک ہے، میں ان کے شو میں جاؤں تو ہم ایک دوسرے پر جملے کستے ہیں،وہ ایک اچھے دوست ہی نہیں اچھے انسان بھی ہیں، انھوں نے کہا کہ میری اور شعیب ملک کی بہت کم ایسی لڑائی ہوتی ہے کہ آپس میں بات چیت نہ کریں،کبھی سیریس بھی ہوجاتے ہیں مگر عام طور پر آپس میں ہنسی مذاق سے ماحول خوشگوار رکھتے ہیں،شعیب ملک اور میں دونوں ہی کھیل کے دوران سخت دباؤ کا سامنا کرتے ہیں، اس لیے کوشش ہوتی ہے کہ زندگی کو آسان لیں۔
کوئی حوصلہ شکنی بھی کرے تولڑکیاں بڑے خواب دیکھنا نہ چھوڑیں
ثانیہ مرزا نے بچیوں کو پیغام دیاکہ کوئی حوصلہ شکنی بھی کرے تو بڑے خواب دیکھنا نہ چھوڑیں،جب بھی کوئی لڑکی کچھ بننا چاہے تو اسے یہی کہا جاتا ہے کہ تم نہیں کر سکتی،بچے کی پیدائش پر میرا وزن بڑھا تو کہا گیا کہ تم ٹینس میں واپس نہیں آسکتی،آپ کو ہمیشہ یہی کہا جائے گا کہ یہ نہیں ہو سکتا، کسی کو اپنے خواب نہ توڑنے دیں کیونکہ زندگی میں یہی سب سے اہم چیز ہے۔
ٹینس ریکٹ سے کرکٹ کھیلنے والا بیٹا فٹبال کا زیادہ شوقین ہے
ثانیہ مرزا نے کہا ہے کہ ابھی بیٹا اذلان ٹینس ریکٹ سے کرکٹ کھیلتا ہے مگر اس کو زیادہ شوق فٹبال کا ہے،وپ اچھی جسامت کا مالک اور لیفٹ کک بڑی مضبوط ہے، ہو سکتا ہے کہ آگے جاکر کرکٹ کھیلے یا کسی کھیل میں دلچسپی نہ لے، بہرحال وہ جو کرنا چاہے اس کی مرضی ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں