جو ملک طاقتور کو قانون کے کٹہرے میں نہ لاسکے وہ تباہ ہوجاتے ہیں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ جو ملک طاقتور کو قانون کے کٹہرے میں نہ لاسکے وہ تباہ ہوجاتے ہیں۔چینی یونیورسٹی کی ایڈوائزری کمیٹی کے ڈائریکٹر کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے 21 سال تک کرکٹ کھیلی، کھیل کا میدان چھوڑنے کے بعد سب سے پہلے کینسر اسپتال بنایا، عطیات کی مدد سے دوسرا کینسر اسپتال تعمیر کیا، تیسرا کینسر اسپتال بنانے پر کام کررہا ہوں، پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں یکسانیت نہیں اور ہر شخص کو اچھی تعلیم تک رسائی نہیں، میں نے اچھی تعلیم کے فروغ اور غریب طبقے کے لئے عطیات کی مدد سے 2 یونیورسٹیاں بنائیں۔وزیراعظم نے کہا کہ میرا یقین ہے کہ ملک کرپشن کی وجہ سے غریب ہوتا ہے، جو ملک طاقتور کو قانون کے کٹہرے میں نہ لاسکے وہ تباہ ہوتے ہیں، سیاست میں آنے کا فیصلہ ملک کو کرپٹ حکمرانوں سے نجات دلانے کیلئے کیا، میری پارٹی کا منشور قانون کی حکمرانی اور فلاحی ریاست کا قیام ہے، 22 سال جدوجہد کے بعد وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوا، میری اولین ترجیح ہے اپنے لوگوں کو غربت سے نکالوں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ میں پہلے دن سے افغانستان کے فوجی حل کا مخالف تھا، امریکا کے افغانستان میں مقاصد واضح نہیں تھے، اگر مقاصد واضح نہ ہوں تو ناکامی ہوتی ہے، اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے بعد ان کا مشن ختم ہو جانا چاہیے تھا، امریکیوں نے افغانستان کی تاریخ پڑھی ہی نہیں، جو لوگ افغانوں کی تاریخ سے واقف ہیں وہ یہ اقدام نہ کرتے جو امریکا نے کیا، افغان عوام آزاد خیال اور خود مختار لوگ ہیں اور وہ غیر ملکی حکمران اور بیرونی تسلط کو قبول نہیں کرتے۔وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں دہائیوں مشکلات اور چیلنجز رہیں، 40 سال بعد آج افغانستان میں کوئی تنازع نہیں، کوئی خانہ جنگی نہیں، لیکن وہاں سنگین انسانی بحران کا سامنا ہے، افغانستان کی معیشت کا 70فیصد انحصار غیرملکی امداد پر ہے، افغانستان میں طالبان حکومت کے آتے ہی دنیا نے ان کے اثاثے منجمد کردیئے ، مغربی قوتوں نے طالبان حکومت کو سزا کے طور پر بینک کھاتے منجمد کیے، پابندیوں کی وجہ سے افغانستان افراتفری کا شکار ہوا، طالبان حکومت پر پابندیاں لگانے سے نقصان افغان عوام کا ہو رہا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ امریکا طالبان حکومت اور عوام میں فرق نہیں کر پا رہا، اب مزید غلطیوں سے گریز کرنا چاہیے۔عمران خان نے مزید کہا کہ امریکا کو جب پاکستان کی ضرورت ہوئی انہوں نے استعمال کیا جب نہ ہوئی تو چھوڑ دیا، امریکا افغانستان صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کوٹھہراتا رہا ، ہم امریکا کے اتحادی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ پر تھے۔ سنکیانگ صورتحال کا جائزہ لینے کےلیے ہم نے اپنا سفیر بھیجا تھا، پاکستانی سفیر نے کہا کہ مغربی میڈیا سنکیانگ صورتحال کو مختلف پیش کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں