ہراسانی اور تشدد کی شکار پروین رند ننگے پاؤں سندھ ہائی کورٹ پہنچ گئی

کراچی: مبینہ ہراسانی اور تشدد کی شکار ہونے والی پروین رند ننگے پاؤں سندھ ہائی کورٹ پہنچ گئی۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروین رند نے کہا کہ 3 عورتیں میرے روم میں داخل ہوئیں، مجھ پر تشدد کیا مجھے گھسیٹا گیا، مجھے پوری یونیورسٹی کے سامنے مارا گیا، یہ واقعہ شہید بینظیر یونیورسٹی میں پیش آیا۔انہوں نے کہا کہ میں ڈاکٹر عذرا سے ملی، انہیں کہا مجھے ماررہے ہیں، میں 3 گھنٹے ڈاکٹر عذرا کا انتظار کررہی تھی، انتظامیہ کو شکایات کی گئی لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔پروین رند نے کہا ہاسٹل میں بچیاں خودکشیاں نہیں کرتیں، ان کو پنکھے میں لٹکایا جاتا ہے، یہ لوگ ملکر ان بچیوں کو مارتے ہیں، سندھ کی بیٹیوں کو مار کر خودکشی کا رنگ دیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ غلام مصطفیٰ راجپوت ابھی تک گرفتار نہیں ہوا، انہیں سپورٹ کیا جارہا ہے۔
واضح رہے نوابشاہ میں پیپلزمیڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ پروین رند کو جنسی ہراساں کرنے پرایک مرد ڈاکٹراور3 خواتین کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔مقدمہ متاثرہ طالبہ پروین رند کی مدعیت میں درج کیا گیا، مقدمے میں جنسی ہراساں کرنے، اقدام قتل اورزخمی کرنے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں