آنکھ کا پردہ دماغی صحت یا مرض کا انکشاف کرسکتا ہے

نیوزی لینڈ: آنکھوں پر نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آنکھ میں روشنی محسوس کرنے والی حساس بافت یعنی ریٹینا کی پشت پر دھاریوں کا تعلق دماغی صلاحیت و صحت سے ہوسکتا ہے۔اس ضمن میں سب سے اہم بیماری الزائیمر ہے جو دھیرے دھیرے دماغی صلاحیت کو تباہ کردیتی ہے۔ یہ مرض خاموشی سے بڑھتا ہے لیکن جب اس کی شدید علامات ظاہر ہوتی ہیں تو اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ تاہم وہ دن دور نہیں جب آنکھوں کے معائنے سے اس کیفیت کی قبل ازوقت پیشگوئی کی جاسکتی ہے جو ڈیمنشیا کی عام اور شدید کیفیت بھی ہے۔
نیوزی لینڈ کی یونیورسٹی آف اوٹاگو کی پروفیسر ایشلی بیرٹ ینگ اور ان کے محقق ساتھیوں کے مطابق آنکھوں کے معائنے سے دماغی امراض بالخصوص الزائیمر کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق آنکھوں کی کھڑکی سی دماغی اور ذہنی کیفیات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔
دس برس قبل معلوم ہوا تھا کہ الزائیمر کے مریضوں کا ریٹینا باریک سے باریک تر ہوتا چلا جاتا ہے دوسری جانب انہی مریضوں کے ریٹینا میں ایمولوئڈ بی ٹا پروٹین کی بڑی مقدار بھر جاتی ہے جو الزائیمر کی عام وجہ بھی ہے۔ پھر 2018 میں معلوم ہوا کہ الزائیمر سے آنکھوں کی تین کیفیات جڑی ہیں جن میں موتیا اور عمررسیدگی کے سے وابستہ نابینا پن یا اے ایم ڈی شامل ہے۔اوٹاگو یونیورسٹی نے 1970 کے عشرے سے اس تحقیق کا آغاز کیا۔ 70 کی دہائی میں پیدا ہونے والے ایک ہزار بچوں کو مطالعے میں داخل کیا گیا۔ سارے بچوں نے ایک ہی ہسپتال میں آنکھ کھولی تھی۔ اب 50 برس بعد 865 بالغان کا جائزہ لیا گیا جنہوں نے45 برس کی عمر میں آنکھوں کے مختلف اسکین کرائے تھے۔ اس کے علاوہ تمام شرکا کی آنکھوں کے دیگر ٹیسٹ بھی کئے گئے تھے۔آخری اور حتمی جانچ میں تمام شرکا کے ریٹینا اور گینگولیئن خلیات کی پرتوں کی موٹائی کو احتیاط سے نوٹ کیا گیا۔ اب جن افراد کا ریٹینا باریک تھا انہوں نے دماغی اور اکتسابی ٹیسٹ میں بری کارکردگی دکھائی یعنی بلوغت میں بھی اور خود بچپن میں بھی وہ ان ٹیسٹ میں دوسروں سے پیچھے تھے۔
لیکن ریٹینا کی باریکی کا مجموعی دماغی زوال سے مکمل تعلق سامنے نہیں آیا۔ تمام بچے اوائل عمر میں ہی دماغی اور ذہنی صلاحیت میں سست تھے۔ لیکن شماریاتی تجزیئے سے معلوم ہوا کہ ریٹینا کی موٹائی میں غیرمعمولی کمی بتاتی ہے کہ دماغی، ذہنی اور اکتسابی صلاحیت میں کچھ کمی ضرور ہے۔
تاہم سائنسدانوں نے اس پر مزید تحیق کی ضرورت پر زور دیا ہے اور اگلے مرحلے میں ایک اور وسیع مطالعہ کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں