سانپ اور پورے بچھو کا سوپ، چین کی مشہور سوغات

بیجنگ: چین میں حشرات کھانے کی روایت بہت قدیم ہے لیکن حال ہی میں سانپ اور سالم بچھو کے سوپ تیزی سےمقبول ہورہے ہیں۔ اگرچہ یہ زہریلے بھی ہوسکتےہیں لیکن لوگوں کی اکثریت اسے بدن کے اندر فاسد مواد صاف کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ڈی ٹاکسفکیشن میں مدد دیتا ہے۔
چینی صوبے گوانگ ڈونگ میں ایسی عجیب و غریب بلکہ خوفناک ڈشیں بھی بنائی جاتی ہیں۔ ان میں ڈیپ فرائی بچھو بطور گوشت کھایا جاتا ہے۔ اس کے ٹھیلے فٹ پاتھوں پر بھی مل جاتے ہیں۔ لیکن دیگر علاقوں میں لوگ سانپ اور بالخصوص بچھو کا سوپ بنانا پسند کرتے ہیں۔
ماہرین بار بار خبردار کرچکے ہیں کہ بچھومیں زہر کی کچھ نہ کچھ مقدار موجود رہتی ہے۔ یہ زہر نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے لیکن لوگ اسے الٹا مانتے ہیں کہ زہر ہی زہر کو مارتا ہے۔ ان کے مطابق یہ جسمانی زہرربائی کا ایک بہترین نسخہ بھی ہے۔ لیکن بچھو کا سوپ بنانا خود کسی بڑی مشکل سے کم نہیں۔
بچھو کے سوپ کے لیے اسے تین گھنٹے تک پکانا ہوتا ہے۔ اکثر اسے مینو میں شامل نہیں کیا جاتا اور فرمائش پر ہی پکایا جاتا ہے۔ اس میں خنزیر اور سانپ کے گوشت کے ٹکڑے ملا کر ادرک، لہسن ، بعض سبزیاں اور تیز مصالحے ڈالے جاتے ہیں۔ اس ترکیب کے بعد بقول عوام یہ ڈی ٹاکسی فکیشن مشروب بن جاتا ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ عام افراد اسے دیکھ کر کھانا ہی چھوڑ سکتے ہیں اور ان کی بھوک تباہ ہوجاتی ہے۔
شوقین افراد کے مطابق اس میں آبی سانپ کا گوشت ملایا جات ہے جو بہت نرم اور لذیذ ہوتا ہے۔ بعض افراد کہتے ہیں کہ بچھوکا ڈھانچہ چپاتے وقت بعض مائعات خارج ہوتے ہیں اور اس کا ذائقہ عجیب و غریب بتایا گیا ہے۔
چینی ادویہ میں بچھو اور سانپ کھانے سے گٹھیا، بلڈ پریشر اور جلد کے امراض ختم ہوتے ہیں۔ گرمیوں میں یہ جسمانی حدت بھی کم کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں