بھارت میں گائے کا گوشت کھانے پرمسلمان شخص ہندوانتہا پسندوں کے ہاتھوں قتل

نئی دہلی: بھارت میں ہندوانتہاپسندوں نے گائے کا گوشت کھانے پرمسلمان شخص کوبدترین تشدد کا نشانہ بنا کرقتل کردیا۔مودی کی ہندوانتہا پسند سرکارمیں گائے کا گوشت کھانا بھی جرم بن گیا۔ ریاست بہار میں ہندوانتہاپسندوں نے ایک اورمسلمان کوگائے کا گوشت کھانے پربدترین تشدد کا نشانہ بنانے کےبعد قتل کردیا۔سوشل میڈیا پروائرل ویڈیو میں محمد خلیل عالم کوہاتھ جوڑ کرہندوانتہاپسندوں سے معافی مانگتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو ہندوانتہاپسند خلیل عالم سے گائے کا گوشت کھانے کے بارے میں سوال کرتے اور انہیں گالیاں دیتے سنائی دے رہے ہیں۔
خلیل عالم ہندوانتہاپسندوں کویقین دلا رہے ہیں کہ وہ آئندہ گائے کا گوشت نہیں کھائیں گے۔ہندوانتہاپسند خلیل عالم سے ان کے بچے کوگائے کا گوشت کھلانے کے بارے میں بھی پوچھتے ہیں جس پروہ جواب دیتے ہیں کہ میرے بچے نے گائے کا گوشت کبھی نہیں کھایا۔جنونی ہندوانتہاپسندوں کے جھتے نے سوال جواب کے بعدخلیل عالم کوانسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ہندو انتہاپسندوں نے خلیل عالم کی تشدد زدہ لاش قریبی ندی کے کنارے پھینک دی۔ پولیس نے حسب روایت ہندوانتہاپسندوں کا ساتھ دیتے ہوئے کسی کوبھی گرفتارنہیں کیا۔بھارت میں گائے کا گوشت کھانے کا الزام لگا کرہندوانتہاپسند جھتے متعدد مسلمانوں کوقتل کرچکے ہیں۔ مسلمانوں کوقتل کرنے والے کسی ایک شخص کوبھی سزا نہیں دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں