تحقیقاتی ٹیم نے آریان خان کو منشیات کیس میں کلین چٹ دیدی

نئی دہلی: بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کے پاس سے خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو منشیات کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔
آریان خان منشیات کیس میں نئی پیش رفت ہوئی ہے۔ اس کیس کے حوالے سے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں منشیات کیس میں گرفتار ہونے والے آریان خان کے پاس سے منشیات کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ آریان خان کسی بھی انٹرنیشنل منشیات اسمگلنگ سنڈیکیٹ کا حصہ نہیں تھے۔ اس کے علاوہ کروز ڈرگز پارٹی پر چھاپے میں کئی بے ضابطگیاں شامل تھیں جس کی وجہ سے آریان خان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آریان کے پاس سے ان کا فون نہیں لیا جانا چاہیے تھا اور نہ ہی فون کی چیکنگ کرنے کی ضرورت تھی۔ایس آئی ٹی کی رپورٹ پر اینٹی نارکوٹکس بیورو(این سی بی) نے اپنا ردعمل دیا ہے۔ این سی بی کا کہنا ہے کہ پہلے دوعدالتوں نے ان مقدمات میں ضمانت مسترد کردی تھی لہذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ این سی بی کی جانب سے کی گئی کارروائی غلط تھی۔این سی بی کے ذرائع نے ایس آئی ٹی کی رپورٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس آئی ٹی کو بنانے کامقصد کیس میں کرپشن (بدعنوانی) کے زاویے کو دیکھنا تھا نہ کہ کیس کی خوبیوں کو۔ اس کا فیصلہ عدالتوں کو کرنا ہے۔آخر میں این سی بی ذرائع نے کہا کہ این سی بی افسران کو غیر منصفانہ بنیادوں پر نشانہ بنایا گیا ہے اور اس کیس کے حوالے سے، این سی بی افسران کے خلاف سیاست دانوں اور بد دیانتی رکھنے والے افراد کی جانب سے بہت سارے الزامات لگائے گئے ہیں۔واضح رہے کہ آریان خان کو گزشتہ برس 3 اکتوبر کو ممبئی کے ساحل پر ایک بحری جہاز پر منعقد ہونے والی پارٹی پرچھاپے کے دوران منشیات رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کیس میں آریان خان تقریباً 26 دنوں تک جیل میں قید رہے تھے۔ بعد ازاں انہیں بومبے ہائی کورٹ نے 28 اکتوبر کو ضمانت پر رہا کردیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں