لمپی اسکن، گوشت بیچنے والوں نے مویشی منڈیوں پر پابندی کا فیصلہ مسترد کر دیا

کراچی: گوشت بیچنے والے دکانداروں نے سندھ میں مویشی منڈیوں پر پابندی کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔
گوشت بیچنے والے دکانداروں کی انجمن میٹ مرچنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن نے مویشیوں کی جلدی بیماری ’’لمپی اسکن‘‘ کی روک تھام کے لیے سندھ میں مویشی منڈیوں پر پابندی کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فیصلہ واپس لیا جائے اور صحت مند جانوروں کی نقل وحمل کی اجازت دی جائے بصورت دیگر شہر میں گوشت کی سپلائی متاثر ہوگی جس سے گوشت اور جانوروں کا کاروبار کرنے والوں کے ساتھ شہری بھی متاثر ہوں گے۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میٹ مرچنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر عبدالمجید قریشی،جنرل سیکریٹری سکندر اقبال قریشی اور ناصر قریشی نے کہا کہ مویشیوں میں جلدی بیماری ’’لمپی اسکن‘‘ کی وبا گوشت فروشوں کا کاروبار بحران کا شکار ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں یومیہ 3 سے 5 ہزار جانور گوشت کے لیے لائے جاتے ہیں، مویشی منڈیوں پر پابندی سے گوشت کی سپلائی متاثر ہوگی منڈیوں پر پابندی کے فیصلے سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور گوشت کی فروخت متاثر ہورہی ہے کراچی کو گوشت کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے شہر کے داخلی راستوں پر مویشیوں کا معائنہ کرکے صحت مند جانوروں کو شہر میں آنے کی اجازت دی جائے۔میٹ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے اراکین اور عہدیداران کا کہنا تھا کہ شہر میں موجود غیر قانونی مذبح خانے بیمار شدہ جانور ذبح کرکے فروخت کرسکتے ہیں اس لیے شہر بھر میں غیرقانونی مذبح خانے بند کرائے جائیں۔
انجمن نے بیماری کی روک تھام کے لیے لائیو اسٹاک ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بیماری اکتوبر میں رپورٹ ہوئی اور 6 ماہ گزرنے کے باوجود محکمہ لائیو اسٹاک متحرک نہیں ہوا، سپر ہائی وے پر جانوروں کی ویکسین کے نام پر 200 سے 500 روپے وصول کرتی ہے محکمہ لائیو اسٹاک ڈپارٹمنٹ اپنی زمے داری ادا نہیں کررہا منڈیوں پر پابندی سے خوف میں اضافہ ہوا ہے۔اراکین کا کہنا تھا کہ عالمی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ گوشت یا دودھ کو ابالنے اور اچھی طرح پکانے سے جراثیم ختم ہوجاتے ہیں اس لیے شہری بلا خوف وخطر گوشت کو اچھی طرح پکاکر استعمال کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں