یوکرین کا ’مقبوضہ‘چرنوبل پلانٹ سے بجلی منقطع ہونے کے بعد تابکاری مواد کے اخراج کا انتباہ

یوکرین کی سرکاری جوہری کمپنی انرگواٹم نے خبردارکیا ہے کہ چرنوبل جوہری بجلی گھرسے تابکارمادے خارج ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بجلی کے کنکشن منقطع ہونےکے بعد خرچ شدہ جوہری ایندھن کو ٹھنڈا نہیں کر سکتا ہے۔
کمپنی نے بدھ کو ایک بیان میں کہاہے کہ لڑائی کی وجہ سے اس پلانٹ کی طرف جانے والی ہائی وولٹیج پاورلائن کی فوری مرمت ناممکن ہوگئی ہے۔روسی فوج نے 24 فروری کو یوکرین پرمکمل حملےکےبعد چرنوبل کے جوہری پاورپلانٹ پر قبضہ کرلیاتھا.انرگواٹم نے بتایا کہ چرنوبل میں قریبا 20,000 خرچ شدہ ایندھن اسمبلیاں موجود ہیں،انھیں بجلی کی بندش کے پیش نظر ٹھنڈا نہیں رکھا جاسکتا۔ان کی حرارت ماحول میں تابکارعناصر اورمادوں کے اخراج کا باعث بن سکتی ہے۔
کمپنی نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ تابکارمواد ہوا کے ذریعے یوکرین، بیلاروس، روس اور یورپ کے دیگر علاقوں میں جاسکتا ہے۔نیز بجلی کے بغیر پلانٹ میں ہوادار نظام بھی کام نہیں کررہا ہوگا جس سے عملہ کوخطرناک تابکاری مواد کا سامنا ہوسکتا ہے۔
دریں اثناء یوکرینی وزیرخارجہ دمیترو کلیبا نے کہا ہے کہ روس کو فوری طور پرعارضی جنگ بندی کا ثبوت پیش کرناہوگا تاکہ چرنوبل جوہری بجلی گھر کی بجلی لائن کی مرمت کی اجازت دی جا سکے۔
ریزرو ڈیزل جنریٹر میں چرنوبل کے جوہری پاورپلانٹ کو 48 گھنٹے تک بجلی مہیا کرنے کی گنجائش ہے۔انھوں نے ٹویٹر پر کہا کہ اس کے بعد خرچ شدہ جوہری ایندھن کے ذخیرہ کرنے کی سہولت کا ٹھنڈا کرنے کا نظام رک جائے گا جس سے تابکاری مواد کے اخراج کا خدشہ ہے۔منگل کو اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے نے خبردارکیا تھا کہ چرنوبل میں تابکارفضلے کی تنصیبات میں جوہری مواد کی نگرانی کرنے والے نظام نے اعدادوشمار کی ترسیل بند کردی ہے۔یادرہے کہ چرنوبل کاچوتھا ری ایکٹراپریل 1986ءمیں ایک ناقص حفاظتی جانچ کے دوران میں پھٹ گیا تھا جس سے یورپ کے بیشتر حصے میں تابکاری کے بادل چھاگئے تھے۔دنیا میں اس بدترین جوہری تباہی کامقام کیف سے قریباً100 کلومیٹر(62 میل) کے فاصلے پرواقع ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں