عمران خان اپنی کرسی بچانے کیلئے انقلابی بن گئے ہیں، شہبازشریف

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے صدر اور پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنی کرسی بچانے کیلئے انقلابی بن گئے ہیں۔ احتساب عدالت لاہور کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کا کہنا تھا کہ متحدہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد ذاتی خواہشات کے لئے نہیں بلکہ عوام کی خواہشات کے مطابق جمع کرائی ہے، ریکوزیشن پر تمام جماعتوں نے دستخط کئے، اسپیکر قومی اسمبلی کا فرض ہے کہ 14 روز میں اجلاس طلب کرے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کو مہنگائی کی آگ میں جھلسانے کا کوئی جواز نہیں دیا جاسکتا، کروڑوں افراد کو ایک وقت روٹی سے محروم کردیا گیا ہے، ہرورز مہنگی بجلی بجلی بن کرگررہی ہے، پونے چار سال میں 22 کروڑ عوام کے ساتھ زیادتی ہوئی، لوگ وزیر اعظم اور حکومت سے جان چھڑانے کی دعائیں مانگ رہے ہیں، عمران خان کا دعویٰ تھا کہ بیرون ملک بھیجے گئے پیسے واپس لاؤں گا، کہاں گئے ان کے وہ وعدے، دعوے کررہے تھے کہ مر جاؤں گا آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا، ان حالات میں ریاست مدینہ کی بات ان کو زیب نہیں دیتی۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد جمع کرانے پر عمران خان بہکی باتیں کررہے ہیں، وہ خود کو عقل کل اور افلاطون سمجھتے ہیں، اور اپنی کرسی بچانے کیلئے انقلابی بن گئے ہیں، میں عمران خان کی زبان میں بات کر سکتا ہوں نہ کروں گا، ہم نے جیلیں کاٹی ہیں، ہم یہاں پیدا ہوئے ہیں اور یہاں ہی مریں گے،عمران خان آپ بھگوڑے ہوں گے، لیکن ہم آپ کو بھاگنے نہیں دیں گے۔شہبازشریف کا کہنا تھا کہ عمران نیازی بوکھلاہٹ کا شکار اور پریشان ہیں، گیڈر بھبھکیاں دیتے ہیں شہبازشریف، فضل الرحمان چھوڑوں گا نہیں، پارلیمنٹ لاجز میں فضل الرحمان کے ساتھیوں کو مارا پیٹا گیا، ہم آئینی اور قانونی طریقے سے چلنا چاہتے ہیں اور یہ غنڈہ گردی پر اتر آئے ہیں، کل حکومت نے اپنا مکروہ چہرہ دیکھا دیا۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ نوازشریف کو غیرجمہوری طریقے سے اقتدار سے باہر کیا گیا، ہم آپ کو آئینی طریقے سے گھر بھیجنا چاہتے ہیں آپ کو کیا تکلیف ہے، یہ غنڈہ گردی سے آئین کا راستہ روکنا چاہتے ہیں، وزیراعظم آج ہر جگہ پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ان کا دوغلا اور کھوکھلا پن ظاہر ہو چکا ہے، جو فیصلہ متحدہ اپوزیشن کرے گی اس کو لے کر چلیں گے، اجتماعی مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ نوازشریف کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں