دہشت نہیں پھیلانا چاہتا لیکن ہمارے پاس اطلاعات اچھی نہیں، وزیرداخلہ

اسلام آباد: وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ دہشت نہیں پھیلانا چاہتا لیکن ہمارے پاس اطلاعات اچھی نہیں، اور سب سے زیادہ خطرہ مجھے اور مولانا فضل الرحمان کو ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز جو واقعہ ہوا اس کی مذمت کرتے ہیں،پارلیمنٹ لاجز میں 362فیملیز رہائش پذیر ہیں، 50 افراد کو لاجز میں داخل کیا گیا، ہم نے 5 گھنٹے مذاکرات کیے، کامران مرتضیٰ نے پولیس سے متعلق انتہائی غلیظ زبان استعمال کی، پولیس پر تشدد کیا گیا اور 6 افراد زخمی ہوئے، پولیس والے ان کی ٹھوڑی پر ہاتھ لگا کر منتیں کرتے رہے،ہم نے کسی کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ نہیں بنایا، ابھی ٹریلر کےطور پر ہلکے پرچے دیے، قانون کو ہاتھ میں لیا تو اگلی بار دہشتگردی کے پرچے ہوں گے
وزیرداخلہ نے بتایا کہ اسلام آباد بہارہ کہو میں پولیس کی کارروائی میں دہشت گرد گروپ گرفتار کیا گیا، دہشت نہیں پھیلانا چاہتا لیکن اطلاعات کچھ اچھی نہیں ہیں، اطلاعات ہیں کہ مولانا فضل الرحمان اور شیخ رشید کو زیادہ خطرہ ہے۔ آپ کے کسی ایم این اے کو سیکیورٹی چاہیے ہمیں بتائے، اپوزیشن والے قانون کو ہاتھ میں نہ لیں ،غلطی کریں گے تو آپ خسارے میں رہیں گے، اگر کسی نے قانون کو ہاتھ میں لینے والے کو کچل کر رکھ دوں گا، میں تمام اپوزیشن رہنماوں کو درخواست کرتا ہوں کسی غلط فہمی کا شکار نہ رہیں۔شیخ رشید نے کہا کہ آئی جی کے پی کو ہدایت کی ہے کہ کوئی بندہ یونیفارم میں اسلام آباد نہ آئے، ملیشاء کے لباس میں جو اسلام آباد ایا اس کو نہیں چھوڑوں گا، میں نہیں دیکھوں گا کہ کون کتنا بڑا لیڈر ہے یا کسی جماعت کا سربراہ ہے، کسی کی سیکیورٹی چاہئے تو ہمیں بتائے، مولانا سے درخواست سے مدارس کے طلبہ کو استعمال نہ کریں، انہوں نے احتجاج کی کال واپس لے کر اچھا کیا، نوازشریف اور آصف زرداری مولانا فضل الرحمان کو استعمال کررہے ہیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن اپوزیشن عمران خان سے ذاتی لڑائی لڑنے جا رہی ہے، اپوزیشن والے عدم اعتماد سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں، اور عدم اعتماد سے پہلے اسلام آباد میں کوئی ہنگامہ کرنا چاہتے ہیں، یہ لوگ 172 افراد کو لا ہی نہیں سکتے، مولانا فضل الرحمان نمبروں کی بات کرنے والے کون ہوتے ہیں، شکر ہے اب آپ کہ رہے ہیں فوج نیوٹرل ہے۔ بعد میں آپ کے 6 ایم این اے کم ہو جانے ہیں پھر ہمیں نہ کہنا، یہ عدم اعتماد سے بھاگ جائیں گے اور کسی اور طرف جائیں گے، الیکشن کے دن پارلیمنٹ ہاوٴس، پارلیمنٹ لاجز اور پرانا ایم این اے ہاوٴس رینجرز اور ایف سی کے حوالے ہوگا، ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں کوئی ایسا واقعہ نہ ہوجائے کہ کوئی بدنامی کا باعث بنے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں