قومی اسمبلی نے انتخابات سے متعلق سابق حکومت کی ترامیم ختم کردیں

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے انتخابات ترمیمی بل 2022ء کے ذریعے سابق حکومت کی الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق ترامیم ختم کرنے کی منظوری دے دی۔قومی اسمبلی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور اورر سیز پاکستانیوں کو ووٹنگ سے متعلق سابق حکومت کی ترامیم کو ختم کرنے کا بل منظور کر لیا۔انتخابات کا ترمیمی بل 2022 قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا، بل وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے پیش کیا۔الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2022 قائمہ کمیٹی کو بھجوانے کا قاعدہ معطل کرنے کی تحریک بھی منظور کر لی گئی۔ایم کیو ایم کے صابر قائم خانی کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مضبوط الیکشن کمیشن اور مضبوط قانون کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے، ہم ہمیشہ الیکشن میں اس معاملے میں متاثر رہے ہیں، جو ترامیم لائی گئی ہیں وہ وقت کی ضرورت تھی۔صابر قائم خانی کا کہنا تھا جن جماعتوں کی اس ایوان میں نمائندگی نہیں ان سے بھی رائے لینا ضروری ہے، 2017 کا منظور کردہ بل اگر واپس آرہا ہے تو اس کی حمایت کریں گے۔وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخابات کرانے کی ترمیم کی گئی، ای وی ایم پر الیکشن کمیشن میں بہت سے اعتراضات اٹھائے، بہت کم فرق سے اس بل کو قومی اسمبلی سے پاس کروایا گیا، یہ بل سینیٹ میں آیا تو اس کو کمیٹی میں بھیجا گیا۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا ہم نے اس کے اوپر بہت سے اجلاس کیے، رولز کو بلڈوز کرتے ہوئے اس بل کو منظور کیا گیا۔
قومی اسمبلی نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کا بل منظور کرتے ہوئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور اوور سیز ووٹنگ کے حوالے سے سابق حکومت کی ترامیم ختم کر دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں