کانز فلم فیسٹیول : معروف فلم ڈائریکٹر کو ریڈ کارپٹ پر جانے سے کیوں روکا گیا؟

ٹورنٹو: فرانس میں جاری دنیا کے سب سے بڑے فلم فیسٹیول کانز میں کینیڈین فلم ڈائریکٹر کو روایتی جوتے پہننے کی وجہ سے ریڈ کارپٹ پر جانے سے روک دیا گیا۔فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق 75 ویں سالانہ کانز فیملی فیسٹیول میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے فلم ساز اور فنکاروں نے شرکت کی تاہم مشہور کینیڈین ہدایتکار کو معمولی بات پر ریڈ کارپٹ پر جانے سے روک دیا گیا۔کیلون ریڈورس کینیڈا میں مقامی ’ڈینی‘ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کینیڈا کے مشہور ہدایتکار ہیں جن کی خواہش تھی کی وہ اپنے قبیلے کے روایتی جوتے پہن کر کانز میں شرکت کریں اور اپنی ثقافت کی نمائندگی کریں۔فلم ڈائریکٹر نے مقامی فلم سازوں کے وفد کے ساتھ فرانس کا سفر کیا تاہم فیسٹیول کے سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں ریڈ کارپٹ پر نہیں جانے دیا اور انہیں کہا گیا کہ وہ جوتے بدل کر دوبارہ آ سکتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیلون نے کہا کہ ’میں نے اپنی ثقافت میں پرورش پائی اور مکیشن پہننا اس کا حصہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ریڈ کارپٹ پر جانے کے لیے کچھ ضوابط ہیں۔ لہٰذا میں نے سوچا کہ اگر میں ٹکسیڈو، بو ٹائی یا ایسے جوتے پہنوں جس سے میں پہچانا جاؤں تو قبول کرلیا جائے گا۔‘
کیلون ریڈورس نے کہا کہ ’کینیڈا میں بہت سی ثقافتوں میں مکیشن ایک روایتی اور حسب ضابطہ جوتے سمجھے جاتے ہیں۔‘ تاہم کیلون ریڈ ورس شیڈول کے مطابق واپس کینیڈا چلے گئے جہاں انہوں نے اس واقعے پر کہا کہ ’’یہ جوتے میری بہن نے خاص طور پر تیار کئے تھےاور میں بہت پرجوش تھاکہ اسے کسی اہم موقعے پر پہنوں گا، میں جب بھی اسے پہنتا ہوں تو خود کو اپنے اہل خانہ اور قبیلے کے ساتھ جُڑا محسوس کرتا ہوں۔‘‘کینیڈین فلم ڈائریکٹر نے کہا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو میں مایوس اور شدید غصے میں تھا، تاہم اس واقعے کے کچھ دیر بعد فیسٹیول کی انتظامیہ نے اس پر معذرت کی اور وہی روایتی جوتے پہننے کی اجازت بھی دے دی۔
کیلون ریڈورس نے فیس بک پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’اس واقعے سے لوگوں کو آگاہی ہو گی کہ مقامی ثقافت میں پہنے جانے والے جوتے ریڈ کارپٹ جیسے ایونٹس کے لیے قابل قبول ہیں۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں