وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اعلی سطح کا اجلاس

پشاور:وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اعلی سطح کا اجلاس ہوا. اجلاس میں وزیر اعلی کے معاون خصوصی بیرسٹر محمد علی سیف، چیف سیکرٹری اور آئی جی پی کے علاوہ اعلی سول اور عسکری حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں حالیہ دنوں میں رونما ہونے والے بد امنی کے چند واقعات کے خصوصی تناظر میں امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے شرکاء کو بدامنی کے واقعات کے اصل محرکات اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں اور کامیابیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ صوبہ بھر میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے سے متعلق معاملات پر تفصیلی گفتگو ہو ئی۔ بدامنی کے واقعات کے موثر تدارک کے لئے آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال اور متعدد اہم فیصلے کئے گئے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شرپسند اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، بریفنگ میں بتایا گیاکہ ابابیل فورس کے قیام سے صوبائی دارلحکومت پشاور میں اسٹریٹ کرائمز کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے، بریفنگ اجلاس میں حال ہی میں قائم کردہ ابابیل فورس کے لئے مزید بھرتیاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اجلاس میں صوبے کے بعض حصوں میں منشیات کی کاشت کے تدارک کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ منشیات کاشت کرنے والوں کو متبادل روزگار دینے کے لئے پلان تیار کیا جائے، وزیر اعلی کی ہدایت امن و امان کے حوالے سے ضلع خیبر، شمالی وزیرستان اور باجوڑ پر خصوصی توجہ دی جائے، وزیر اعلی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات اٹھا ئے جائیں،وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا کہ شرپسند عناصر کے خلاف اینٹیلجنس معلومات کی بنیاد پر کاروائیاں تیز کی جائیں، بھتہ خوروں اور ڈرگ مافیا کے خلاف کاروائیوں پر خصوصی توجہ دی جائے، انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہے، ان کی تمام ضروریات ترجیحی بنیادوں پر پوری کی جائیں گی، وزیر اعلی صوبائی حکومت اس مقصد کے لئے تمام درکار وسائل فراہم کرے گی، محمود خان شرپسند اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں قابل تعریف ہیں،
تاہم ایک مربوط حکمت عملی کے تحت مزید موثر کارروائیوں کی ضرورت ہے، وزیر اعلی صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، محمود خان صوبے میں امن و امان کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں