وزیراعظم کی ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت

وزیراعظم شہباز شریف اپنے وفد کے ہمراہ تین روزہ سرکاری دورے پر انقرہ پہنچ گئے۔دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی ترک صدر رجب طیب اردگان سے وَن آن وَن ملاقات ہوگی جبکہ وفود کی سطح پر بھی بات چیت ہو گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنما ذرائع ابلاغ سے مشترکہ خطاب بھی کریں گے اس کے علاوہ معروف ترک کمپنیوں کے سربراہ بھی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے۔
انقرہ میں وزیراعظم شہبازشریف نے ترکی پاکستان بزنس فورم سے خطاب بھی کیا اور کہا کہ ترکی اور پاکستان کے درمیان قریبی اور تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں، ترک قوم کبھی اپنے دوستوں کو نہیں بھولتی، ترکی نے زلزلے، سیلاب اور قدرتی آفات میں پاکستان کی بھرپور مدد کی، پاکستان اور ترکی کی دوستی لازوال ہے، بدقسمتی سے ہمارے تعلقات دوطرفہ تجارت میں عکاسی نہیں کرتے، پاکستان اور ترکی کو باہمی سرمایہ کاری کےفروغ کیلئے تمام رکاوٹیں دورکرنا ہوں گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ بعض ترک سرمایہ کاروں کے ساتھ عدم تعاون پر میں معذرت خواہ ہوں، ترکی نے لاہور میٹرو بس منصوبے کا ڈیزائن بغیر معاوضے کے فراہم کیا، پاکستان توانائی کے شعبے میں ترک سرمایہ کاروں کا خیر مقدم کرے گا، پاکستان اور ترکی یک جان دو قالب ہیں، ہم نے ماضی کی غلطیوں سے بہت سیکھا ہے، ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتا ہوں، ترک سرمایہ کاروں کو یقین دلاتا ہوں کہ انہیں ہرممکن تعاون فراہم کیا جائے گا، پاکستان ترک سرمایہ کاروں کا دوسرا گھر ہے، پاکستان اور ترکی کے درمیان مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دوطرفہ تجارت کا موجودہ حجم ناکافی ہے، ترکی کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں۔وزیراعظم شہبازشریف نے آئندہ 3سال میں پاک ترک تجارت کا حجم 5 ارب ڈالرکرنےکا ہدف بھی مقرر کیا۔انہوں نے کہا کہ ترک بھائیوں کیلئے ویزے کا مسئلہ دورکریں گے ،آئیں آج عزم کریں کہ دوطرفہ تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر تک لے جائیں گے، یقین دلاتاہوں کہ اس ہدف کے حصول کیلئے ہرممکن تعاون فراہم کروں گا۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے ترک خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو میں کہاکہ پاکستان اور ترکی کےتاریخی تعلقات مثالی،سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ہیں، پاکستان اور ترکی بنیادی قومی مفادکےتمام معاملات پر ایک دوسرے کی حمایت کرتےہیں، مقبوضہ کشمیر پر اصولی حمایت کیلئے ترکی کےشکرگزار ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں دیرینہ اور وسیع البنیاد تعلقات ہیں،پاک امریکا تعمیری مصروفیات خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کو فروغ دے سکتی ہیں، امریکا پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی اور ترسیلات زر کا بڑا ذریعہ ہے،موسمیاتی تبدیلی،صحت،توانائی،تجارت،سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں امریکاکے ساتھ مذاکرات کررہےہیں۔شہبازشریف نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو میں تعاون پُرامن، خوشحال خطے کیلئے پاکستان کےوژن کےمطابق ہے، سی پیک کا نیامرحلہ اورپاک چین بی آر آئی تعاون پاکستان کی صنعتی،اقتصادی جدت کو تیز کرے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر سےمتعلق بھارت کے5اگست 2019 کےغیرقانونی یکطرفہ اقدامات پرپاکستان کا اصولی مؤقف ہے، پاکستان محصور کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کےبھارتی فیصلےکی مذمت کرتاہے، کشمیریوں کے حق خودارادیت سےمسلسل انکاری بھارت سے تجارتی پیشرفت کا تصور بھی مشکل ہے، پاک بھارت تعلقات معمول پر لانے کیلئے بھارت کو 5 اگست 2019 کے اپنے اقدامات پر نظرثانی کرنی ہوگی،باہمی فائدہ مند تجارت اور بات چیت کیلئے سازگار ماحول پیداکرنے کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ افغان عبوری حکومت کے ساتھ معاملات انتخاب نہیں بلکہ ضرورت ہیں، دنیا کو افغانستان کے انسانی بحران اور کمزور معیشت سے نمٹنے کی ذمہ داری نبھانی چاہیے، افغان معیشت کا مکمل خاتمہ افغانوں، پاکستان اور عالمی برادری کے لیے تباہ کن ہوگا، افغانستان میں عدم استحکام کا اثر پڑوس اور اس سے باہر بھی اثر انداز ہوگا، غیر مستحکم افغانستان سے پناہ گزینوں کا اخراج اور دہشت گردی کسی کے مفاد میں نہیں، پاکستان افغان عبوری حکومت پر ان کےبین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کیلئے زور دے رہا ہے، بین الاقوامی برادری کو ان وعدوں کی پاسداری کیلئے افغان حکومت کے ساتھ رہنا چاہیے۔کابل حکام نےاپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونےدینےکی یقین دہانی کرائی ہے.
کالعدم ٹی ٹی پی سے ثالثی میں طالبان کےکردار سےمتعلق سوال پر شہباز شریف نے کہا کہ کابل حکام نےاپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونےدینےکی یقین دہانی کرائی ہے، کابل حکام نےتمام دہشت گردتنظیموں کےخلاف سخت کارروائی اور تمام محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنےکابھی کہاہے، عالمی برادری کی طرح ہمیں بھی کابل حکام سے ان کےاپنےوعدوں پرقائم رہنےکی توقع ہے، ہم دہشت گردی کو شکست دینے، خطے اور اپنے ملک میں امن و استحکام کیلئے تمام راستے اپنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلامی تعاون تنظیم کے بانی ارکان میں سے ہے، پاکستان نے ہمیشہ او آئی سی کو متحرک کرنے اور تمام مسلم ممالک کے قریبی تعلقات کیلئے فعال کردار ادا کیا ہے، پاکستان کے سعودی عرب اور ایران کے ساتھ بہترین برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان امت مسلمہ کے درمیان اتحاد کے فروغ کیلئے کوششیں جاری رکھے گا، بحیثیت چیئرمین اوآئی سی وزرائےخارجہ کونسل پاکستان امت مسلمہ کے اختلافات ختم کرنے میں مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں