گزشتہ حکومت کی الیکشن ایکٹ ترمیم سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کے طریقہ کار میں تبدیلی کے خلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے پر مزید دلائل طلب کر لیے ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے داؤد غزنوی کی درخواست پر سماعت کی۔ پٹیشنر کی جانب سے عارف چودھری ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ گزشتہ حکومت نے بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا، نئی ترمیم خلاف آئین ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کسی بھی قانون میں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا گیا، صرف ووٹ کے طریقہ کار کو طے کرنا ہے؟ کیا 90 لاکھ اوورسیز پاکستانی ایک حلقے میں ہی ووٹ ڈالیں گے؟
عدالت نے کہا کہ جو پہلے ترمیم تھی وہ بھی یہی تھی لیکن اب والی ترمیم میں زیادہ وضاحت دی گئی ہے، لوگ باہر سکونت رکھتے ہیں، دونوں ترامیم ان کے حقوق کو ختم نہیں کر رہیں۔ بادی النظر میں گزشتہ حکومت کی ترمیم سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نہیں تھی۔
عارف چودھری ایڈووکیٹ نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ 90 لاکھ لوگ بیرون ملک میں مقیم ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا ایک جواب دے دیں نوے لاکھ بیرون ملک پاکستانی کس حلقے میں ووٹ دیں گے؟ اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے طریقہ کار کو اداروں نے طے کرنا ہے عدالت نے نہیں، ملک کے آئینی اداروں اور پارلیمنٹ کا احترام کریں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے امریکی شہریت رکھنے والے درخواست گزار سے سوال کیا کہ پاکستان میں مقیم دوہری شہریت کے حامل امریکی شہری کس امریکی قانون کے تحت ووٹ ڈالتے ہیں؟
کیس کی مزید سماعت تین جون تک ملتوی کر دی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں