ملک کو بچانا ہے تو امپورٹڈ حکومت کو جلدی ہٹانا ہے،وزیر اعلی کے پی کے

وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے سوات میں میڈیا سے خصوصی گفتگو کی . وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا کہ اگر ملک کو بچانا ہے تو امپورٹڈ حکومت کو جلدی ہٹانا ہے، یہ انٹرنیشنل سلیکٹڈ حکومت ہے جو بیرونی سازش کے تحت قائم ہوئی ہے،
انہوں نے کہا ک ہوفاقی حکومت میرے خلاف جتنی کمیٹاں بنانا چاہتی ہے بنالے، میں صوبے کا منتخب وزیر اعلی ہوں اپنے لوگوں کا تحفظ میری ذمہ داری ہے، امپورٹڈ حکومت جو چاہے کر لے ہم اپنا کام کریں گے، میرے خلاف بننے والی کمیٹی کا سربراہ ایک مجرم اور قاتل ہے،امپورٹڈ وزیر داخلہ سانحہ ماڈل ٹاون کا مرکزی کردار ہے، منشیات کے کیس میں وزیر داخلہ کے خلاف فرد جرم عائد ہونے جارہا ہے، امپورٹڈ حکومت نے ہمارے پر امن مارچ کے شراکاء پر بدترین تشدد کیا،
اٹک پنجاب کا حصہ اور بحیثیت وزیر اعلی مجھے پنجاب میں داخلے سے روک دیا گیا، ملک میں آزادانہ نقل و حرکت ہر شہری کا آئینی حق ہے، اس سلسلے میں کل کابینہ اجلاس میں امپورٹڈ حکومت کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا جائے گا، امپورٹڈ حکومت نے میرے خلاف تین مقدمات درج کئے،جتنی مرضی میرے خلاف مقدمے درج کئے جائیں میں پیچھے ہٹنے والا نہیں، میں عمران خان کا سپاہی ہوں مقدمات سے نہیں ڈرتا، ہم پر امن اور جمہوری لوگ ہیں آئین کی مکمل پاسداری کریں گے، اگر عمران خان خیبر پختونخوا میں ہے تو یہاں پر اس کی حکومت ہے، صوبے میں ہماری دو تہائی اکثریت ہے کوئی گورنر راج نہیں لگا سکتا، ملکی معیشت ڈوب رہی ہے نااہل حکمرانوں کے پاس کوئی پالیسی نہیں، امیر مقام اتنا بڑا لیڈر نہیں کہ میں ان کی باتوں کا جواب دوں، امیر مقام کی باتوں کا جواب میرے ایم پی ایز دیں گے، امیر مقام سیاستدان نہیں ٹھیکہ دار ہے جو ہر وقت پیسے بنانے کے چکر میں ہوتا ہے، امیر مقام جماعت اسلامی سے نکل کر مشرف کا بھائی بن گیا، جب مشرف چلا گیا تو یہ ان چوروں کے ساتھ بیٹھ گیا،یہ اقتدار کے پیچھے بھاگنے والے لوگ ہیں، میں وہ بندہ ہوں جس کے پیچھے بھاگتا ہے، سوات کے مختلف علاقوں کو گیس سپلائی کے لئے صوبائی حکومت نے 64 کروڑ روپے کے فنڈز فراہم کئے تھے، جب ان چوروں کی حکومت ختم ہوگی تو وہ فنڈز خرچ کئے جائیں گے، میں اپنے لوگوں سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا ، میرا تعلق اسی مٹی سے ہے، جب حکومت ختم ہوگی تو واپس سوات آکر اپنے لوگوں میں بیٹھوں گا، میں نے ان لوگوں کی طرح باہر کوئی جائیدادیں نہیں بنائی ہیں،
امیر مقام پی ٹی ائی میں شامل ہونے کی کوشش کررہا تھا لیکن پارٹی کے لوگ اس کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے،
پی ٹی ائی میں امیر مقام جیسے لوگوں کی کوئی جگہ نہیں، سوات پر صرف سوات کے لوگ حکمرانی کریں گے، باہر کا کوئی شخص سوات پر حکمرانی نہیں کر سکتا،ہم سیاسی لوگ ہیں بات چیت پر یقین رکھتے ہیں، حالات جنگ میں بات چیت کے راستے بند نہیں ہوتے، اگر عمران خان دوبارہ مارچ کی کال دیں گے تو اس دفعہ بھی سوات کے لوگ سب سے زیادہ تعداد میں شریک ہونگے، ہم گزشتہ مارچ کے دوران بھی پر امن رہے اگلی دفعہ بھی پر امن رہیں گے، پی ٹی آئی ورکز ہماری فورس ہیں، اگلے مارچ میں ورکرز بھر پور انداز میں شرکت کریں گے،
مینگورہ سٹی میں پانی کی قلت کا مسئلہ حل کرنے کے لئے میگا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے،
منصوبے کا ٹینڈر ہوگیا ہے جون کے آخر تک عملی کام کا آغاز کیا جائے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں