سعودی عرب کا انسانی تاریخ کی سب سے بڑی عمارت تعمیر کرنے کا منصوبہ

سعودی عرب نے دنیا کی سب سے بڑی عمارت تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اس کے 500 ارب ڈالرز کے منصوبے ‘نیوم’ کا حصہ ہوگی۔بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یہ عمارت 500 میٹر بلند ہوگی جبکہ چوڑائی کے لحاظ سے وہ کئی میل پر پھیلی ہوئی ہوگی۔یہ بنیادی طور پر 2 بلند و بالا عمارات پر مشتمل منصوبہ ہے جس میں رہائشی سہولیات کے ساتھ ساتھ ریٹیل مراکز اور دفاتر موجود ہوں گے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اس حوالے سے ڈیزائنرز کو ایک پروٹوٹائپ عمارت پر کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو یہ عمارت دنیا کی سب سے بڑی عمارت ہوگی اور فیکٹریوں یا مالز کو پیچھے چھوڑ دے گی۔خیال رہے کہ نیوم شہزادہ محمد بن سلمان کا سعودی معیشت کو مختلف شعبوں میں پھیلانے کا منصوبہ ہے جس کا اعلان 2017 میں کیا گیا تھا اور اس منصوبے کے لیے سعودی عرب کے دور دراز شمال مغربی علاقے میں 10 ہزار اسکوائر میل کا علاقہ مختص کیا گیا تھا۔
2021 میں اسی پراجیکٹ کے تحت ایک شہر ‘دی لائن’ کی تعمیر کا اعلان بھی ہوا تھا، جس میں گاڑیاں چلیں گی اور نہ ہی ان کے لیے سڑکیں ہوں گی۔
ایک خطاب میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے لائن شہر کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ آلودگی سے پاک شہر میں 10 لاکھ افراد کی رہائش کا بندوبست ہو گا اور شہر کے انفرا اسٹرکچر پر 100 سے 200 ارب ڈالر کا خرچہ آئے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں