دعا زہرہ کو بیرون ملک جانے سے روکنے کا حکم

کراچی: عدالت عالیہ سندھ نے کراچی سے پنجاب جاکر پسند کی شادی کرنے والی لڑکی دعا زہرہ کی بازیابی سے متعلق درخواست پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آّئی اے) کے حکام کو نوٹس جاری کیا ہے کہ لڑکی کو ملک سے باہر نہ جانے دیا جائے۔عدالت نے نادرا اور اسٹیٹ بینک کو بھی ملزمان کے شناختی کارڈز اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم دیدیا۔جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے دعا زہرہ کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ اس موقع پر سابق اور موجودہ آئی جیز عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ کیا دعا زہرہ انسانی اسمگلنگ کا معاملہ ہے؟ جس پر انسپکٹر جنرل سندھ غلام نبی میمن نے وضاحت کی کہ یہ انسانی اسمگلنگ کا کیس بالکل نہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر دعا زہرہ لاہور ہائیکورٹ میں بیان دے تو معاملہ کچھ اور ہوجائے گا۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کہ بچی کا صرف یہاں بیان لینا چاہتے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اس سلسلے میں کیا پیش رفت ہے؟ جس پر آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا کہ ابھی میں ایڈیشنل آئی جی ہوں۔ 7 ٹیمیں بنائی گئی ہیں، 3 تکنیکی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ 16 افراد گرفتار کرکے تفتیش کی گئی ہے، جن میں سے 3 کو سوال، جواب کے بعد چھوڑ دیا گیا ہے۔ 12 افراد زیر حراست ہیں۔ 2 افراد کو کراچی لایا گیا ہے۔ 10 افراد کو کراچی لایا جارہا ہے۔ آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ بچی سے متعلق کچھ سراغ ملے ہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ان کی مدد کون کررہا ہے، اتنے طاقتور لوگ ہیں۔ ظہیر احمد کا والد پنجاب یونیورسٹی کا ڈرائیور تھا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہمارا خدشہ یہ ہے کہ انسانی اسمگلنگ نہ ہو۔ غلام نبی میمن نے کہا کہ ایسا بالکل نہیں۔ ہماری حدود ایک حد تک ختم ہو جاتی ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس کو ہم بھی سمجھتے ہیں۔ اسی لیے تو وفاقی حکومت کو مدد کے لیے کہا ہے۔ جب تک بچی نہیں آئے گی، یہ معاملہ یوں ہی چلتا رہے گا۔ امید ہے آپ ضرور لائیں گے۔عدالت نے وفاق اور ایف آئی اے کو فریق بنانے کا حکم جاری کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے کو سرحدی علاقوں کی نگرانی اور کارروائی کا حکم دیدیا۔ عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے لڑکی کو بیرون ملک منتقلی سے روکنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے نادرا اور اسٹیٹ بینک کو ملزمان کے شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم دیدیا۔ علاوہ ازیں عدالت نے سابق آئی جی کامران فضل کو جاری کردہ شوکاز نوٹس واپس لے لیا۔بعد ازاں عدالت نے سماعت 10 جون تک ملتوی کرتے ہوئے دعا زہرا کو پیش کرنے کا حکم دیدیا۔
سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے غلام نبی میمن نے کہا کہ ایک بچی لاپتا ہے اور اس کا کیس رجسٹرڈ ہے اور اس طرح کے کیسز پر عدالت ہی فیصلہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بچی کی پروٹیکشن انتہائی ضروری ہے۔ ہم صرف بچی کو پروٹیکشن دینا چاہتے ہیں، اگر وہ بچی جہاں جانا چاہے گی، ہم اسے جانے دیں گے۔
دعا زہرا کے والد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جج صاحب نے جو محسوس کیا تو انہوں نے کہا کہ بچی ملک سے باہر نہ جانے پائے۔اس کے علاوہ نادرا کو بھی پابند کیا گیا ہے اس مسئلے کو دیکھیں کہیں بچی کے جعلی دستاویزات بنا کر پاسپورٹ نہ بنایا جائے۔ مجھے امید ہے کہ آئندہ جمعہ کو بچی بازیاب کرالی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں