سیاسی جماعتیں بلدیاتی قانون پر تاحال متفق نہیں ہوسکیں

کراچی: سندھ اسمبلی کی نمائندہ سیاسی جماعتیں اگرچہ بلدیاتی قانون پر تاحال متفق نہیں ہوسکی ہیں تاہم بلدیاتی قانون میں ضروری ترامیم پر بحث جاری رکھی جائے گی۔سندھ اسمبلی کے سینئر اسپیشل سیکریٹری محمد خان رند کے مطابق بلدیاتی قانون کے حوالے سے تشکیل دی گئی سلیکٹ کمیٹی کے اجلاس بدستورجاری رہیں گے، میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ گزشتہ اجلاس میں سلیکٹ کمیٹی میں شامل سیاسی جماعتوں کے اراکین نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ بلدیاتی قانون میں ضروری تبدیلیاں لائے بغیر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بے مقصد ہوگا،اس لیے ضروری ہے کہ بلدیاتی انتخابات قانون میں ضروری ترامیم کے بعد منعقد ہوں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ ایڈوکیٹ جنرل سندھ کے توسط سے معزز عدالت کو سلیکٹ کمیٹی کی رائے سے آگاہ کیا جائے گا، واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ نے موجودہ بلدیاتی قانون کو آئین کے آرٹیکل اے کی روشنی میں بنانے کا حکم دیا تھا، اس سلسلے میں سندھ اسمبلی کے اسپیکر کی جانب سے فروری میں سندھ اسمبلی میں موجود تمام پارلیمانی جماعتوں کے اراکین پر مبنی 23 رکنی سلیکٹ کمیٹی تشکیل دی تھی جسے ایک ہفتے میں بلدیاتی قانون میں ضروری تبدیلیاں تجویز کرنے کا کہا گیا تھا لیکن3 مہینے گزرنے کے باوجود سلیکٹ کمیٹی کے ارکان میں ترامیم پر اتفاق نہ ہوسکا۔
سلیکٹ کمیٹی کے منعقدہ اجلاسوں میں ایم کیوایم، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور تحریک لبیک پاکستان کے نمائندوں نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا، سلیکٹ کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے منٹس کے مطابق پیپلز پارٹی کے رکن محمد قاسم سومرو نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف نے مختلف طرز کی مقامی حکومتیں تجویز کی ہیں جبکہ حکومت سندھ کی الگ سوچ ہے، ایم کیو ایم نے تقریباً وہی نظام تجویز کیا ہے جو سٹی گورنمنٹ، تعلقہ اور یونین کونسل ناظمین پر مشتمل ہو، جبکہ تحریک انصاف ولیج کونسل اور ٹاؤن کمیٹیوں والا نظام چاہتی ہے۔
اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سلیکٹ کمیٹی کو سب سے پہلے وارڈ سے لے کر تعلقہ اور ٹاؤن سطح تک بلدیاتی نظام کی بنیادی تشکیل پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا، اجلاس کے منٹس کے مطابق ایم کیو ایم کے خواجہ اظہارالحسن نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کی بنیادی تشکیل سے زیادہ انھیں عدالتی حکم کی روشنی میں سیاسی، انتظامی اور مالی طور پر بااختیار بنانے پرتوجہ دینی چاہیے۔اجلاس کے منٹس کے مطابق ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کو آئین کے آرٹیکل 140 اے کے مطابق بنانا ہے، اس مرحلے پرکسی نئے بلدیاتی نظام کو متعارف کرانے سے مشکلات پیدا ہوںگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں