بھارت گستاخانہ بیانات پر معافی مانگے: وزیر خارجہ بلاول بھٹو

اسلام آباد: وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہےکہ بھارت نے گستاخانہ بیانات پر معافی نہ مانگی تو حقیقت مزید کھل جائے گی کہ بھارت سیکولر یا جمہوری نہیں بلکہ ہندو بالادستی کا ملک ہے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران افغانستان کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان سے مزید مہاجرین کی آمد کا خطرہ ہے، افغان حکومت کو عالمی برادری کی توقعات پر پورا اترنا ہوگا، افغانستان سے انہیں نکالنے کی کوشش کررہے ہیں جن کی زندگیوں کو خطرہ ہے، افغانستان میں 97 فیصد لوگ خط غربت کے نیچے جا رہے ہیں۔روس یوکرین معاملے پر بلاول بھٹو کا کہنا تھاکہ یوکرین پر پاکستان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، ہم روس یوکرین جنگ کے مذاکراتی حل پر زور دیتے رہیں گے، تمام تنازعات کو بلآخر بات چیت سے ہی حل ہونا ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میری ترجیح پاکستان کی معاشی سفارت کاری کا فروغ اور دنیا کے ساتھ اچھے روابط ہیں۔بی جے پی ترجمان کے گستاخانہ بیان پر وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت نے گستاخانہ بیانات پر معافی نہ مانگی تو حقیقت مزید کھل جائے گی کہ بھارت سیکولر یا جمہوری نہیں بلکہ ہندو بالادستی کا ملک ہے۔اس موقع پر جرمنی کی وزیر خارجہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل بات چیت کے ذریعے ہونا چاہیے، کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کو انسانی بحران کا سامنا ہےجب کہ روسی جارحیت یورپ اور پوری دنیا کے لیے خطرناک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں