بی جے پی کے ایک اور رہنما کی نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی

کان پور: بھارت میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی طلبا تنظیم کے رہنما ہرشیت سری واستو کو گستاخانہ ٹوئٹ پر شدید عوامی احتجاج کے بعد پولیس نے حراست میں لے لیا۔بی جے پی نے گستاخانہ بیانات پر دنیا بھر احتجاج اور شدید سفارتی دباؤ کے بعد اپنی ترجمان نوپور شرما اور دہلی کے میڈیا ہیڈ کو معطل کرتے ہوئے توہین آمیز بیان سے لاتعلقی کا تو اظہار کردیا ہے تاہم اب بھی کچھ رہنما اپنے بغض کا اظہار کر رہے ہیں۔جس کی تازہ مثال کانپور کے رہائشی اور بی جے پی کی جماعت کے طلبا ونگ کے سرکردہ رہنما ہرشیت سری واستو ہیں جنھوں نے ٹوئٹر پر نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخانہ ٹوئٹ کی اور مذہبی فسادات کو ہوا دینے کی کوشش کی۔کان پور میں پہلے ہی نماز جمعہ کے بعد سے نوپور شرما کے گستاخانہ بیان کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج چار دن گزر جانے کے باوجود جاری ہے اور ہر دن اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس پر قابو پانے میں مودی سرکار مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔نوپور شرما کے گستاخانہ بیان کا معاملہ ابھی تھما نہیں تھا کہ ہرشیت کی ٹوئٹ سے کان پور میں مسلم برادری میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی اور عوام نے پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کیا اور ایف آئی آر درج کرائی۔عوام کے شدید غم وغصے کو دیکھتے ہوئے کان پور پولیس گستاخی کے مرتکب بی جے پی کے طلبا رہنما ہرشیت سری واستو کو حراست میں لینے پر مجبور ہوگئی اور گستاخانہ ٹوئٹس کو حذف کردیا گیا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسی کے مطابق کسی کو مذہبی فسادات کو ہوا دینے یا سماجی ہم آہنگی کو تہہ و بالا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایسے کسی اقدام کے مرتکب شخص سے غیر جانبداری کے ساتھ اور سختی سے نمٹا جائے گا۔یاد رہے کہ بھارت میں گجرات کے قصاب نریندر مودی وزیر اعظم بننے کی دوسری میعاد مکمل کر رہے ہیں اور اس دوران مسلم دشمنی اور اقلیتوں کے خلاف جرائم میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔
تاہم گستاخی رسول ﷺ ایسا معاملہ ہے جس پر پوری دنیا کے مسلمانوں نے احتجاج کیا اور مودی سرکار کو اپنے عہدیداروں کو معطل اور گرفتار کرنا پڑا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں