وزیراعظم کے حکم پر پختونخوا میں 40 روپے فی کلو آٹے کی فراہمی شروع

پشاور: وزیراعظم شہباز شریف کے حکم پر خیبر پختون خوا میں شہباز اسپیڈ سے سستے آٹے کی عوام کے لیے فراہمی شروع کردی گئی ہے۔صوبے کے عوام کو سستے آٹے کی فراہمی کے وعدے کی تکمیل کے لیے 100 موبائل اسٹورز نے باقاعدہ کام شروع کردیا ہے۔ اس سلسلے میں خیبر پختون خوا کو ایبٹ آباد اور پشاور زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ بتدریج وسیع کرتے ہوئے پورے صوبے میں پھیلایا جائے گا۔ذرائع کے مطابق ایبٹ آباد اور پشاور زونز میں 50 ہزار سے زائد آٹے کے تھیلے فروخت کیے گئے ہیں، جن میں سے 22 ہزار 70 تھیلے ایبٹ آباد اور پشاور میں 23 ہزار 400 سے زائد سستے آٹے کے تھیلے فروخت کیے گئے۔ اس سلسلے میں دونوں زونز میں الگ الگ موبائل اسٹورز کے ذریعے سستا آٹا فراہم کیا جا رہا ہے۔منصوبے کے مطابق خیبرپختونخوا کے عوام کو 40 روپے فی کلو آٹے کی فراہمی کے لیے 13 جون تک موبائل اسٹورز کی تعداد بڑھا کر 200 کردی جائے گی جب کہ 9 جون تک صوبے میں آٹے کی فروخت کے عارضی سیل پوائنٹس بھی کام شروع کردیں گے، جن کی تعداد 17 جون تک بڑھا کر 500 کردی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق سستے آٹے کی فروخت کے 993 مقامات کی مجموعی تعداد 2 ہزار سے زائد کردی جائے گی۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ خیبر پختون خوا کے بہادر عوام کی زندگیوں میں آسانی لانے اور 8 سال سے ان کے صوبے میں رکے ہوئے ترقی کے عمل کو آگے بڑھائیں گے۔دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے صوبے میں آٹے کی ترسیل سے متعلق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت صوبے کے ہزاروں اسٹورز پر عوام کو سستا آٹا فراہم کر رہی ہے۔امپورٹڈ حکومت یوٹیلٹی اسٹورز پر فراہمی معطل کرکے آٹے کے چند ٹرک بھیجنے کی شوبازی کر رہی ہے۔
کامران بنگش نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دس بارہ ٹرک آٹے کی ترسیل خیبرپختونخوا کے4 کروڑ عوام کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔آٹے سمیت تمام خوردنی اشیا کا حصول خیبر پختونخوا کے عوام کا آئینی و قانونی حق ہے۔صوبے میں سستے آٹے کی فراہمی کے لیے وزیراعلیٰ محمود خان نے 12 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں