اسلام آباد؛ ریڈزون میں افغان خیموں کیخلاف فوری کارروائی کی ہدایت

اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں اسلام آباد انتظامیہ کو وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں افغانیوں کے خیموں کے خلاف فوری کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ افغان مہاجرین جعلی دستاویزات کے ساتھ پاکستانی بن رہے ہیں جب کہ اس پورے عمل میں نادرا کے ملازمین بھی شریک ہیں۔ انہوں نے چیئرمین نادرا سے پوچھا کہ آپ نے اس سلسلے میں کیا کارروائی کی؟۔ چیئرمین نادرا نے استفسار پر بتایا کہ 377 ملازمین کو نوکریوں سے نکالا جا چکا ہے۔
چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے کہا کہ یہ لوگ جب پاکستانی پاسپورٹ پر دوسرے ممالک میں جاتے ہیں تو ہماری بدنامی ہوتی ہے۔ انہوں نے 3 سال سے زائد عرصہ سے ایک ہی نشست پر موجود نادرا افسران کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ نادرا ملازمین کی پروموشن اور بھرتی ہونے کی تفصیل فراہم کی جائے۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ بہت سے افغانی ایمبیسی روڈ کے ساتھ گرین بیلٹ پر بیٹھے ہیں۔ انہوں نے جو شرٹس پہن رکھی ہیں، ان پر kill us لکھا ہے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ جب یہ لوگ سیکڑوں میں تھے تو ایکشن ہونا چاہیے تھا، اب ہزاروں میں ہو چکے ہیں۔چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے سیکرٹری داخلہ کو فوری ایکشن کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آج شام تک اقدامات کرکے پی اے سی کو بتایا جائے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو او ایس ڈی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پتا ہی نہیں کہ ریڈ زون میں کون لوگ رہ رہے ہیں۔
بعد ازاں ڈی سی اسلام آباد عرفان میمن کے پی اے سی اجلاس میں پہنچنے پر چیئرمین نور عالم خان نے سوال کیا کہ آپ نے افغان مہاجرین کے معاملے پر کیا کیا۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ غیر قانونی افغان مہاجرین ڈیڑھ مہینہ سے اسلام آباد میں بیٹھے ہیں جو یورپ جانا چاہتے ہیں۔ اس معاملے میں انٹرنیشنل کمیونٹی بھی ہےجب کہ دفتر خارجہ اور وزارت انسانی حقوق معاملے کو دیکھ رہی ہے۔
چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان نے گرین بیلٹ پر مقیم تمام افغان مہاجرین کا بائیو میٹرک کرنے کی ہدایت کی۔
سی ڈی اے افسران کے اثاثوں کی تفصیلات طلب
علاوہ ازیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تمام افسران کے اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ اجلاس میں چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے کہا کہ سی ڈی اے افسران گفٹس کی تفصیلات ایک ماہ میں جمع کرانے کے ساتھ اپنی فیملی اور بہن بھائیوں کے اثاثوں کی تفصیلات بھی پیش کردیں۔
چیئرمین پی اے سی نے چیف کمشنر اسلام آباد کو ہدایت کی کہ گریڈ 17 سے 22 تک تمام سی ڈی اے افسران کی تفصیلات پیش کی جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں