کراچی: عامر لیاقت کے ڈرائیور اور ملازم نے پولیس کو کیا بیان دیا؟

کراچی: عامر لیاقت کے انتقال کے بعد ان کے ملازم اور ڈرائیور کا بیان سامنے آگیا۔ڈرائیور جاوید اور ملازم ممتاز کے مطابق 2گھنٹے سے گھر کی بجلی بند تھی اور جنریٹر چل رہا تھا، اچانک جنریٹرکادھواں بھرنے سے میری اور عامر بھائی کی طبعیت خراب ہوئی۔ملازم ممتاز نے پولیس کو دیے گئے بیان میں کہا کہ جنریٹر ایک ہفتہ قبل ہی خریدا تھا لیکن کچھ دنوں سےخراب چل رہا تھا۔ملازم کا کہنا تھا کہ میں گھرکا مرکزی دروازہ کھول کر باہر آیا تو ڈرائیور جاویدکی آواز آئی کہ عامر لیاقت کی طبیعت خراب ہورہی ہے، ہم دونو ں نے کے کمرے کا دروازہ کھولنےکی کوشش کی۔دوسری جانب عامر لیاقت کے ڈرائیور جاوید نے بتایا کہ 7 سال سے عامر لیاقت کے ساتھ کام کررہا ہوں، دھواں بھرنے کے بعد جب میں نے ممتاز اور باہر موجود دکانداروں کو آواز دی اور ہم واپس عامر لیاقت کےکمرے میں ان کے پاس پہنچے تو وہ فرش پر گرے ہوئے تھے، اس کے بعد فوری ریسکیو کو بلاکر انہیں اسپتال منتقل کیاگیا، ایمبولیس میں عامر لیاقت کے ساتھ ہی تھا۔ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کے انتقال پر انکے ملازم نے بتایا کہ وہ گزشتہ رات ملک چھوڑنے کی تیاری کررہے تھے جبکہ اس دوران بہت روئے جس کے باعث انکی طبعیت بگڑ گئی۔ ان کے دل میں درد ہو رہا ہے ، میں نے کہا کہ ہسپتال چلتے ہیں ، لیکن انہوں نے کہا میں نے ہسپتال نہیں جانا ، آج صبح ملازم جب پہنچا تو اندر سے چیخ کی آواز سنائی دی ، ملازم نے دروازہ کھٹکٹایا لیکن اندر سے دروازہ نہیں کھولا گیا جب زبردستی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے تو عامر لیاقت بیہوشی کی حالت میں بیڈ پر موجود تھے ۔ ملازم جاوید کی جانب سے پولیس سے رابطہ کیا گیا پھر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن ہسپتال انتظامیہ کا کہناہے کہ جب انہیں یہاں لایا گیا تو انتقال کر چکے تھے ۔ملازم نے بتایا کہ جب سے دنیا سے معاملات خراب ہوئے تھے عامر لیاقت ہروقت ٹینشن اور شدید ڈپریشن کا شکار تھے جس کے باعث انکی طبعیت بہت زیادہ ناساز تھی۔ڈرائیور نے مزید بتایا کہ اسپتال جاکر معلوم ہوا کہ وہ انتقال کرچکے ہیں جس کے بعد ہم نے عامر لیاقت کے اہل خانہ کو اطلاع دی جس پر اہل خانہ نے کہا کہ گھر جاؤ اور پولیس کو بیان ریکارڈ کراؤ۔
رکن اسمبلی عامر لیاقت حسین کچھ دیر قبل طبیعت خرابی کے سبب انتقال کرگئے تھے، ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ انہیں مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا جب کہ پولیس کا موقف ہے کہ موت کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے ان کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا، فی الحال ان کا گھر سیل کرکے شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں