پٹرول مزید مہنگا ہوگا، بے روزگاری بڑھے گی، شوکت ترین

اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے بجٹ 2022-23 پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی حکومت پٹرول مزید مہنگا کرے گی جب کہ بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوگا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ کل مفتاح اسماعیل نے ایک کنفیوز بجٹ پیش کیا ہے۔ انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کس کو بے وقوف بنارہے ہو؟ حکومت نے خسارو کا بجٹ پیش کیا ہے جب کہ ہم نے 30 برس میں سب سے زیادہ جی ڈی پی گروتھ بڑھائی۔شوکت ترین نے کہا کہ مہنگائی 24 فیصد تک ہوچکی ہے۔ ابھی بے روزگاری مزید بڑھے گی۔ ہمارا خیال ہے بے روزگاری کی شرح 25 سے 30 فیصد تک جائے گی جب کہ پٹرولیم لیوی بڑھانے سے پٹرول 35 روپے فی لیٹر مزید بڑھے گا۔ مہنگائی زیادہ ہوگی تو کاروبار کیسے بڑھے گا۔
پی ٹی آئی رہنما نے دعویٰ کیا کہ ہم نے تاریخ کا سب سے زیادہ ریونیواکٹھا کیا۔ ہماری گروتھ 6 فیصد،یہ 5 فیصدگروتھ کی بات کررہےہیں۔ ہم نے سب سے زیادہ 5.5 ملین افراد کو روزگار دیا۔ ہمارے دورمیں ایگری کلچرمیں 4.4 فیصد گروتھ ہوئی۔ ہم نے سب سے زیادہ روز گار کے مواقع پیدا کیے ہیں۔سابق وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بجٹ خسارہ 4.2ٹریلین روپے ہے۔ اکنامک سروے پڑھ لیں ،آپ کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ بینکوں پر ٹیکس 12،12فیصد بڑھا دیے گئےہیں۔ ہمارے خیال میں انکم ٹیکس بھی بڑھانا چاہییں تھے۔ اب یہ فکسڈ انکم ٹیکس لے کر آئیں گے۔ انکم ٹیکس کی مد میں 43 ملین کا ہم ڈیٹا چھوڑ کر آئے۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے ان کو آئی ایم ایف سے ریلیف نہیں ملے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں