والدین سے معافی مانگتی ہوں، درخواست ہے دل بڑا کر کے ہمیں قبول کر لیں: دعا

کراچی سے لاہور جا کر پسند کی شادی کرنے والی دعا زہرا نے والدہ کے ساتھ سندھ ہائیکورٹ میں ہونے والی ملاقات کی روداد سنا دی۔شوہر ظہیر احمدکے ساتھ پہلے انٹرویو میں دعا زہرا کا کہنا ہے سندھ ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر والدہ سے یہ نہیں کہا کہ میں ان کے ساتھ جانا چاہتی ہوں، والدہ نے جج کو جھوٹ بولا ہے۔تقریباً دو ماہ بعد والدین سے ہوئی ملاقات سے متعلق دعا زہرا کا کہنا تھا کہ والدین مجھے ملاقات کے دوران کہتے رہے کہ جج سے کہو کہ آپ ہمارے ساتھ جانا چاہتی ہو لیکن میں نے ان سے کہا کہ میں ایسا نہیں چاہتی۔دعا کا کہنا تھا کہ میں نے والدہ سے کہا کہ اگر آپ چاہتی ہیں تو صلح کر لیں تاہم والدہ کا کہنا تھا کہ ہم ایسا کچھ نہیں کریں گے، بس آپ جج سے وہ کہو جو ہم کہہ رہے ہیں جس پر میں نے انکار کر دیا لیکن والدین نے جج سے جھوٹ بولا کہ میں ان کے ساتھ جانا چاہتی ہوں۔
دعا زہرا نے مزید کہا کہ مجھے کسی نے نشہ نہیں دیا، نہ بلیک میل کیا اور نہ ہی زبردستی کوئی بیان دلوایا گیا، میں نے اپنی مرضی اور پسند سے شادی کا فیصلہ کیا۔
عمر سے متعلق دعا کا کہنا تھا کہ والدین نے جو عمر پاسپورٹ میں لکھوائی وہ کم تھی، میری اصل عمر 17 سال ہے لیکن میرے والدین نے میری عمر دو تین سال بڑھواکر لکھوائی ہے، جو عمر میری میڈیکل ٹیسٹ میں آئی ہے وہ بالکل ٹھیک ہے۔دعا زہرا نے اپنے انٹرویو میں والدین سے بھی درخواست کی کہ ہم نے شادی اسلام کے مطابق کی، مانتی ہوں مجھ سے غلطی ہوئی جس پر معافی مانگتی ہوں لیکن درخواست کرتی ہوں کہ والدین دل بڑا کر کے مجھے اور ظہیر کو قبول کر لیں۔دعا کا مزید کہنا تھا کہ ظہیر کے کسی گینگ سے ہونے والی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں، ان کی فیملی بہت اچھی ہے اور مجھے بہت خوش رکھا ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں