14 سالہ بچی کو بڑا دکھانے کیلئے گدی پر بٹھادیا، دعا کی والدہ کا ردعمل

ظہیر کے ہمراہ دعا کے انٹرویو پر دعا زہرہ کی والدہ نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔دعا کی والدہ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ میری بچی دباؤ کا شکار ہے، عدالت میں اس نے خود ہم سے ملاقات میں کہا تھا کہ وہ ہمارے ساتھ چلے گی لیکن یہ کہتے ہی وہ اسے اٹھا کر لے گئے۔دعا کی والدہ نے رشتہ آنے کی بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپ خود بتائیں اگر کوئی رشتہ آئے گا اور لڑکی کسی کو پسند کرتی ہوگی تو ماں باپ اتنی جدو جہد نہیں کرتے، کوئی اپنی بے عزتی نہیں کرواتا، ہم صرف بچی کی خاطر یہ سب کررہے ہیں تاکہ وہ بحفاظت گھر آجائے’۔
دعا کی والدہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ‘میں نے ظہیر کے بھائی کا انٹرویو دیکھا جس میں وہ کہہ رہا تھے کہ دعا کہتی ہے مجھے جان سے ماردو لیکن میں کراچی نہیں جاؤں گی، میں بتادوں اگر میری بیٹی کو آپ لوگوں نے مارا یا اسے کوئی خراش آئی تو میں آپ لوگوں کو چھوڑوں گی نہیں’۔انہوں نے کہا کہ ’کزن کو بلاوجہ اس میں دھکیلا جارہا ہے، اس قسم کے کیس میں جائیداد اور ایسے ہی پوائنٹس اٹھائے جاتے ہیں اور یہ سب کے علم میں ہے‘۔دعا کی والدہ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ’میں نے ویڈیو میں دیکھا کہ 14 سالہ بچی کو گدی رکھ کر بٹھایا ہوا ہے، سب کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں، گدی پر بٹھایا ہے تاکہ وہ بڑی نظر آئے، وہ جیسی ہے اسے ویسے ہی دکھائیں، اس یوٹیوبر نے دعا کا میک اپ کرکے اپنے جیسی عورت بناکر بٹھادیا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’جب یہ کراچی میں تھے تو کسی میڈیا والے کو دعا کا انٹرویو نہیں لینے دیا گیا اب اس زنیرہ نامی لڑکی نے کیسے انٹرویو کرلیا، اسے یقیناً ظہیر کے گھر والوں نے پیسہ کھلایا ہوگا تبھی وہ باآسانی ان تک پہنچ گئی‘۔دوران انٹرویو انہوں نے کہا کہ یہ جو لڑکا کہہ رہا ہے کہ ہم باہر چلے جائیں گے، بیٹا آپ پورے پاکستان کے داماد بنے ہوئے ہو، آپ میرے بھی داماد بنے ہوئے ہو تو میں آپ کو بتادوں کہ پاکستان سے باہر تو نہیں جانے دیں گے، ایک آپ نے بچی اغوا کی، دوسرا پوری دنیا کو پاگل بناکے رکھا ہوا ہے، بچی کو ملک سے باہر لے جانے والی غلط فہمی اپنے دماغ سے نکال دیں‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم شریف لوگ ہیں کسی گینگ کے بندے نہیں ہیں تو یہ لوگ رشتہ لے کر آتے، اگر یہ شریف ہوتے تو جب میری بچی ان کے پاس اکیلے گئی تو ظہیر کی ماں ہم سے رابطہ کرتیں، پوچھتیں کہ اس طرح بچی آگئی ہے اب کیا کرنا ہے، لیکن انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں