بجٹ بھی پیش ہوگا اور تین ماہ سے جاری کھیل تماشے کا بندوبست بھی ہوگا ، حمزہ شہباز

اسلام آباد : وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ بجٹ کا اجلاس بلا کر فوری ملتوی کر دیاگیا ، کبھی میڈیا پر اسمبلی کے دروزے بند کر دیے جاتے ہیں ، اب بجٹ بھی پیش ہو گا اور تین ماہ سے جاری کھیل تماشے کا بندوبست بھی ہوگا۔
پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ قوم نے دیکھا کہ جب عدالت عالیہ کے حکم پر ڈپٹی سپیکر نے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کرایا تو ان پر جان لیوا حملہ کرنے کیلئے غنڈوں کو کس نے اندر بھیجا، ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ کون انگوٹھے اٹھا کر شاباش دے رہا تھا، اب آپ تقاضہ کرتے ہیں کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری کو پیش کریں ، آئی جی اور چیف سیکرٹری کا کیا قصور ہے ؟، انہوں نے عدالت کے حکم پر آئین وقانون کی پاسداری کی ۔ قوم نے دیکھا کہ ٹوٹے بازو کی دھائیاں دینے والے نے اسی بازو سے دھمکیاں بھی دیں ، یہ کون ساکھیل تماشہ لگا ہوا ہے ، میں نے کل کہا کہ میری ذات کا مسئلہ نہیں بلکہ 12 کروڑ عوام کا معاملہ ہے جو بجٹ کا انتظار کر رہے ہیں ۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ میں اللہ اور اس کے بعد عوام کو جوابدہ ہون ، میں چاہتا تھا کہ کل جو لوگ مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں انہیں ریلیف ملے ، انہیں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ملے ، ہمارے وزیر کہتے رہے کہ بجٹ پیش کرنے دیں مگر آئی جی اور چیف سیکرٹری کی یاد ستا تی رہی ، ان کو علم ہونا چاہئے کہ اس اجلاس کا یک نکاتی ایجنڈا وزیر خزانہ کا بجٹ پیش کرنا تھا ۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کل اسمبلی میں مجھے بار بار بلاتے رہے ، میں اپنے چیمبر میں بیٹھا تھا ، اس بلڈنگ کا کروڑوں کا خرچہ ہے ، یہاں پورے صوبے کی مشینری بیٹھی رہی ، میں خود رات 12 بجے تک بیٹھا رہا کہ مزدوروں ، کلرکوں کیلئے اچھی خبر لے کر آیا تھا انہیں دے سکوں ۔ میں صوبے کے عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ سپیکر کی کرسی پر بیٹھے شخص کی انا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی نہ بنی گالہ میں بیٹھے شخص کی انا ختم ہو رہی ہے ، پھر جب رات 12 عدالتیں کھلتی ہیں تو انہیں تکلیف ہوتی ہے ۔
حمزہ شہباز نے کہا کہ یہ ریاست مدینہ کا نعرہ لگاتے تھے ، ریاست مدینہ میں توشہ خانہ سے گھڑیاں چوری کر کے کروڑوں میں بیچی جاتی تھیں ؟، ریاست مدینہ میں فرح گوگی اربوں کی ٹرسٹ کی انچارج تھی ، میں گزارش کرتا ہوں کہ میں آج بھی اسی نیت سے آیا ہوں کہ صوبے کے عوام کو بجٹ دیں ، حمزہ شہباز کی کوئی انا نہیں ہے ، عاجزی اللہ کو پسند ہے ، عوام کی بہتری کیلئے انا بھی نچھاور کرنی پڑتی ہے تو کروں گا، میں یہاں انتظار کروں گا ، اللہ اور عوام پر بھروسہ ہے ، کبھی سنا ہے کہ دو ماہ سے وزیر اعلیٰ کے پاس کابینہ نہ ہو ، میری پاس نہیں تھی ، بغیر کابینہ کے آٹے پر دو سو ارب کی سبسڈی دی ۔ڈپٹی سپیکر پر حملہ کرنے والے شخص کے سامنے ہم آئی جی اور چیف سیکریٹری کا کیوں پیش کریں؟حمزہ شہباز
عطا تارڑ سے متعلق سوال کے جواب پر حمزہ شہباز نے کہا کہ عطا تارڑ مشیر ہیں ، وہ 6 ماہ تک اسمبلی میں بیٹھ سکتے ہیں ، اگر کسی کو کسی کی شکل پسند نہیں یا کوئی اور پرانا دکھ ہے تو قانون کی پامالی کیوں کر رہے ہیں ، آپ حمزہ شہباز سے نہیں عوام سے دشمنی لے رہے ہیں ، ہم تین ماہ سے آئینی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں ، یکم جولائی سے ڈی ایچ کیو ، تی ایچ کیو میں کینسر اور عام ادویات مفت کرنے جا رہے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں