شوگر کمیشن میں چوہدریوں کے خلاف انکوائری عمران خان نے مکمل کرائی تھی: رانا ثنااللہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہےکہ شوگر کمیشن میں چوہدریوں کے خلاف انکوائری عمران خان نے مکمل کرائی تھی اور ہم نے اسی فائل سے شروع کیا ہے۔
میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ ’ مونس الٰہی ناراض نہ ہوں، شوگرکمیشن انکوائری عمران خان کے دور حکومت میں ہوئی، اس وقت مونس کی گرفتاری کا فیصلہ ہوا تھا، عمران خان مونس کو اس وقت گرفتار کروانا چاہتے تھے جس کا مونس نے مجھے خود بتایا، ہم جب ان کے گھر وزراتِ اعلیٰ سے متعلق مذاکرات کے لیے گئے تب مونس نے اس بات کا اظہار کیا تھا‘۔انہوں نے کہا کہ ’رحیم یار خان کی شوگر ملر نواز بھٹی اور مظہر کے نام پر خریدی گئی، چوہدریوں نے 72 کروڑ کی سرمایہ کاری کی ہے اور رحیم یار خان کی شوگر مل خریدی‘۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ’مونس الٰہی کو صرف نوٹس کریں گے اور کہیں گے آکر ان پیسوں سے متعلق ثابت کریں، نواز بھٹی اور مظہر حسین ثابت کریں کہ 72 کروڑ ان کے ہیں، یہ کرپٹ پیسہ ہے اور یہ منی لانڈرنگ ہے، یہ ثابت کردیں اس حوالے سے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، اگر ثابت ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے چوہدری صاحبان تھے تو مونس کو گلہ نہیں کرنا چاہیے، اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو گرفتاری ہوگی‘۔وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ’یہ انکوئری عمران خان نے ان کےخلاف مکمل کراکے فائل رکھی ہوئی تھی، ہم نے اسی فائل کو شروع کیا ہے، یہ عمران خان کی طرف سے چوہدریوں کو تحفہ ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’ کسی جگہ پر کوئی چھاپہ نہیں پڑے گا، مونس آئیں انہیں باعزت طریقے سے بٹھایا جائےگا، ساری دستاویزات رکھی جائیں گی، انہیں پورا موقع دیا جائے گا، اگر انہیں نوٹس موصول نہیں ہوا تو ہوجائیگا، انہیں موقع دیا جائے گاکہ ثابت کریں 72 کروڑ کس کا تھا‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں