قومی ٹیم کے سلیکشن مسائل سابق کرکٹرز کو کھٹکنے لگے

لاہور: ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے دوران قومی ٹیم کے سلیکشن مسائل پر سابق کرکٹرز نے محمد وسیم کو نشانے پر رکھ لیا۔راشد لطیف کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز سے سیریز کے دوران بیٹنگ میں حارث سہیل کی کمی محسوس ہوئی،مڈل آرڈر بیٹر تکنیکی طور پر مضبوط اور مختلف پچز و کنڈیشنز میں پرفارم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان کویکسر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ محمد حارث کو پلیئنگ الیون میں شامل کرنا احمقانہ فیصلہ تھا، چیف سلیکٹر ایسے کام نہ کریں۔ٹی ٹوئنٹی میں پرفارم کرنے والے کرکٹر کو ون ڈے کیلیے کیوں منتخب کررہے ہیں؟ کیا پاکستان کیپ حاصل کرنا اتنا ہی سہل ہے؟میں نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت کیخلاف نہیں مگر ان کو پہلے ڈومیسٹک کرکٹ تو کھیلنے دیں، اگر محمد رضوان کی کرکٹ ختم ہوگئی تو کسی دوسرے کو لانے کا سوچیں۔ تفصیلات کے مطابق اگرچہ پاکستان نے آسٹریلیا سے ہوم ون ڈے سیریز میں فتح کے بعد مہمان ویسٹ انڈین ٹیم کو بھی کلین سوئپ کیا مگر مڈل آرڈر سمیت مختلف مسائل بھی نظر آئے۔اوپنر فخرزمان بڑی اننگز نہیں کھیل پائے، توقعات کا زیادہ تر بوجھ امام الحق اور بابر اعظم نے اٹھایا، محمد رضوان اور خوشدل شاہ کی کارکردگی میں تسلسل کا فقدان رہا، ٹی ٹوئنٹی میں کارکردگی کی بنیاد پر منتخب ہونے والے محمد حارث بھی کیریئر کی پہلی انٹرنیشنل سیریز کو یادگار نہیں بناسکے،انھوں نے 2 اننگز میں صرف 6رنز اسکور کیے، گرین شرٹس کو آئندہ سال بھارت میں ہونے والے 50 اوورز فارمیٹ کے ورلڈکپ میں شرکت کرنا ہے۔جہاں کئی مضبوط حریفوں کا سامنا ہوگا،اس صورتحال میں مڈل آرڈر میں کسی ایسے بیٹر کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے جو فاسٹ اور اسپن بولنگ پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اچھا رن ریٹ بھی برقرار رکھ سکے، سابق کرکٹرز سلیکشن میں غلطیوں پر تنقید کے ساتھ بہتری کیلیے تجاویز بھی دے رہے ہیں، سابق کپتان راشد لطیف نے کہا کہ ہوم سیریز کے دوران پاکستانی بیٹنگ میں حارث سہیل کی کمی محسوس ہوئی،مڈل آرڈر بیٹر تکنیکی طور پر مضبوط اور مختلف پچز و کنڈیشنز میں پرفارم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماضی میں انھیں انجری مسائل کا سامنا رہا لیکن پی سی بی ان کویکسر نظر انداز نہیں کرسکتا، ہوسکتا ہے کہ انھوں نے پہلے کچھ غلطیاں بھی کی ہوں مگر ان کی پاکستان ٹیم میں جگہ بنتی ہے،یاد رہے کہ حارث سہیل کے کیریئر میں انجریز کی وجہ سے بریک لگتی رہی مگر جتنا بھی کھیلے ریکارڈ اچھا رہا،انھوں نے 42ون ڈے میچز میں 46.80کی اوسط سے 1685رنز بنائے،اس میں 2سنچریاں اور 14ففٹیز شامل ہیں۔ایک اور سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا کہ راشد لطیف کے بعد سابق کپتان شاہد آفریدی نے محمد حارث کے انتخاب پر تنقید کرتے ہوئے چیف سلیکٹر محمد وسیم کے فیصلے کو احمقانہ قرار دیا، مقامی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ چیف سلیکٹر محمد وسیم کی جانب سے نوجوان کرکٹر محمد حارث کے انتخاب انتہائی احمقانہ فیصلہ تھا، ان سے گزارش ہے کہ وہ ایسے اقدام سے گریز کریں۔سابق کپتان نے چیف سلیکٹر سے سوال کیا کہ ’’آپ ایسے کھلاڑی کا انتخاب ون ڈے ٹیم کیلئے کیوں کررہے ہیں؟، جس نے محض دو ٹی20 میچز کھیلیں ہوں، پاکستان کیلئے ڈیبیو کرنا کوئی مذاق نہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم میں نوجوانوں کرکٹرز کو شامل کرنے کے خلاف نہیں، لیکن انہیں ڈومیسٹک کھیل کر تجربہ حاصل کرنے دیا جائے، تاہم رضوان اور سرفراز کی موجودگی میں حارث کو کھلانا سمجھ سے بالاتر ہے۔سابق آل راؤنڈر نے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ رضوان کو ون ڈے کرکٹ میں لطف اندوز ہونا چاہیئے، جیسے وہ ٹی20 میں کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں