اپوزیشن نے فیٹف پر تعاون نیب ترامیم سے مشروط کیا تھا، فواد چودھری

اسلام آباد: پی ٹی آئی رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے دور میں اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ پہلے نیب ترامیم کریں، پھر فیٹف معاملے پر تعاون کریں گے۔حنا ربانی کھر اور بلاول بھٹو نے فیٹف معاملے پر ترامیم کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ ن لیگ نے پہلا این آر او پرویز مشرف سے لیا اور اب دوسرا این آر او لیا جارہا ہے۔ این آر او 1 کے تحت شریف خاندان اور زرداری کے کیسز ختم ہوگئے۔نیب قوانین میں ترمیم کرکے شریف خاندان اور زرداری صاحب کو فائدہ دیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے ساڑھے 3 سال میں نیب نے 487 ارب روپے ریکور کئے ۔ حکومت نیب کی ریکوری سے بجلی اور تیل کی قیمت کنٹرول کرسکتی ہے ۔ راجہ ریاض اور وزیراعظم نے اسمبلی میں تھیٹر لگایا ہوا ہے ۔ چیئرمین نیب لگ کر کوئی اب کر کیا سکتا ہے ۔ اب کون ہے جو چیئرمین نیب لگنا چاہے گا ۔
فواد چودھری نے کہا کہ حنا ربانی کھر اور بلاول بھٹو نے فیٹف معاملے پر ترامیم کا بائیکاٹ کیا تھا ۔ اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ پہلے نیب ترامیم کریں پھر فیٹف کے لیے تعاون کریں گے۔ پی ٹی آئی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ نیب قانون کا سیکشن 14 ختم کردیا گیا ، جس کے مطابق ممنوعہ رقم کے حوالے سے ثبوت ملزم فراہم کرتا تھا۔ نئے قوانین میں اثاثوں کی تعریف تبدیل کردی گئی ہے۔ تحریک انصاف نیب قوانین میں ترمیم کے خلاف یوم سیاہ منارہی ہے۔
سیکشن 21 میں ترمیم سے مریم نواز کا ایون فیلڈ کیس ختم ہو جائے گا۔ ترمیم سے خواجہ سعد رفیق کے آشیانہ کیس کو بھی فائدہ ہوگا جب کہ سیکشن 4 میں ترمیم سے راجہ پرویز اور شاہد خاقان عباسی کے کیسز کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی خود مختاری کو ختم کرکے وزرات داخلہ کے زیر انتظام کردیا گیا ہے ۔
سابق وفاقی وزیر نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ خرم دستگیر نے ٹی وی پر حکومت تبدیل کرنے کی وجہ بتائی اور اعتراف کیا کہ احتساب سے بچنے کے لیے عمران خان کو باہر نکالا۔ کتنا شرمناک ہے کہ امریکی سفیر سے کہ رہے ہیں آئی ایم ایف سے ہماری ڈیل کروائیں۔ یہ کہتے ہیں ہمارے معاہدوں کی وجہ سے مہنگائی ہوئی۔
فواد چودھری نے کہا کہ عمران خان پاکستان کو جوڑنے کی علامت ہیں۔ جو لوگ بارش کے باوجود پی ٹی آئی کی کال پر باہر نکلے، ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ عوام نے امپورٹڈ حکومت کو مسترد کردیا ۔ نااہل اور نالائق امپورٹڈ حکومت کو سمجھ نہیں آرہی کہ کرنا کیاہے؟ اب ہمیں ڈر لگنا شروع ہوگیا ہے کہ یہ لوگ ملک کو کدھر لے کر جائیں گے۔ یہ ملک کو سری لنکا کی طرف لے کر جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی ساری قیادت کے خلاف کیسز کے فیصلے آجاتے، لیکن اب 1100ارب کے مقدمے نیب دائرہ اختیار سے نکل جائیں گے۔ شریف اور زرداری فیملی کو خصوصی فائدے دے دیے گئے ہیں۔ پاناما کیسز کو فائدہ پہنچانے کے لیے بھی اسپیشل ترامیم کی گئی ہیں۔ اب بیوی ، بچوں یا کسی اور کے نام پر اثاثوں کی چھان بین نہیں ہو پائے گی۔ فواد چودھری نے کہا کہ نیب قوانین میں ترامیم سے بے نامی اثاثوں کو نکال دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں