ڈاکٹر عامر لیاقت کی قبر کشائی کیلئے 6 رکنی بورڈ تشکیل، قبر کشائی 23 جون کو ہو گی

کراچی: مرحوم معروف ٹی وی اینکر و رکن قومی اسمبلی ڈاکٹرعامر لیاقت حسین کی وجہ موت کے تعین کے لیے 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا۔ذرائع کے مطابق سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے پوسٹ مارٹم کیلئے 6 رکنی بورڈ تشکیل دے دیا ہے جو 23 جون کو قبر کشائی کرے گا۔ ڈاکٹر سمیعہ سید کی سربراہی میں تشکیل دیئے گئے بورڈ ایڈیشنل پولیس سرجن شاہد نظام، ایچ او ڈی فارنزک میڈیسن پرویز مخدوم، فارنزک ایکسپرٹ ڈاکٹر ہری رام لوہانہ، ڈاکٹر گلزار علی سولنگی اور ایم ایل اور ڈاکٹر اریب بقائی شامل ہیں۔
کراچی سٹی کورٹ میں جودیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں معروف ٹی وی اینکرورکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے پوسٹ مارٹم سے متعلق شہری عبد الاحد نے درخواست دی تھی، درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر ارسلان راجہ نے موقف دیا کہ معروف ٹی وی اینکرورکن قومی اسمبلی ڈاکٹرعامرلیاقت حسین کی اچانک پراسرارموت ہوئی ہے۔
عامر لیاقت حسین معروف ٹی وی اینکر اور سیاست دان تھے،وجہ موت کا تعین بہت ضروری ہے، انکی اچانک موت سے ان کے مداحوں میں شکوک و شبہات ہیں شبہ ہے کہ عامر لیاقت کو جائیداد کے تنازع پر قتل کیا گیا ہےاستدعا ہے کہ عامرلیاقت کی قبرکشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے خصوصی بورڈ تشکیل جائے۔
جس پر عدالت نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین پوسٹ مارٹم کا حکم دیا تھا گزشتہ روز ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی وجہ موت کے تعین کے لیے 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے اور اس ضمن میں نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق 23 کو ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی قبر کشائی صبح ساڑھے 9 بجے عبداللہ شاہ غازی کے مزارکے احاطے میں کی جائے گی قبر کشائی کے موقع پر متعلقہ مجسٹریٹ اور پولیس افسران بھی موجود ہوں گے، قبر کشائی کے دوران عامر لیاقت کی میت کے کچھ اعضا لیے جائیں گے جنہیں کیمیکل ایگزامنشین کے لیے لیبارٹری بجھوایا جائے گا اور رپورٹ آنے کے بعد وجہ موت کا تعین ہوسکے گا۔قبل ازیں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی وزیر حسین میمن نے اینکر پرسن عامر لیاقت کی موت کی وجہ جاننے کے لیے سیکریٹری کو صحت میڈیکل بورڈ بنانے کا تحریری حکم جاری کیا تھا۔ اس حوالے سے سٹی کورٹ کے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی وزیر حسین میمن نے سیکریٹری صحت کو ایک خط لکھا تھا جس میں پوسٹ مارٹم کے لیے ضروری اقدامات کا بھی حکم دیا تھا۔
واضح رہے کہ 9 جون کو عامر لیاقت کی پراسرار موت کے بعد ان کے اہلخانہ نے پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کردیا تھا جس پر مجسٹریٹ نے ان کی باڈی کے بیرونی حصّے کا معائنہ کرکے میت کو ورثاء کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا، بعدازاں انکی تدفین عمل میں لائی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں