معاشی بحالی کے لیے مزید مشکل فیصلے کرنے پڑے تو کریں گے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف سے مذاکرات پر قوم کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے، آئی ایم ایف سے مذاکرات کی کامیابی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف قوم کو اعتماد میں لیں گے۔
وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافےکا آئی ایم ایف سے کوئی تعلق نہیں، اضافہ عالمی سطح پر مہنگائی کی وجہ سے ہے، پہلا بجٹ ہے جب امیروں پر ٹیکس اور غریبوں کو ریلیف دیا گیا۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کا اگلا دور آج اور کل رات کو ہوگا، آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پیش رفت ہوگی۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امید ہے آئی ایم ایف سے مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے، جلد معاشی بحران پر قابو پالیں گے۔اجلاس میں وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے سیاسی بنیادوں پر تقرر و تبادلوں کی مخالفت کرتے ہوئےکہا کہ ہم کچھ عرصے کےلیے آئے ہیں ہمیں کام کرنا چاہیے،ہمیں سیاسی بنیادوں پر لوگوں کو خوش کرنے کی ضرورت نہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں سکوک بانڈز جاری کرنےکی بھی منظوری دی گئی، ذرائع کا کہنا ہےکہ سکوک بانڈز سے مقامی قرضوں کا بوجھ بھی کم ہوگا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا معاملہ بھی زیرغور آیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی چیف، وزارت خارجہ اور ایف اے ٹی ایف سیل کو مبارک باد دی۔ذرائع کا کہنا ہےکہ وفاقی کابینہ کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس پر بھی بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم نے انڈونیشیا سے خوردنی تیل منگوانے پر وزیرصنعت اور ٹیم کو مبارک باد دی،ان کا کہنا تھا کہ خوردنی تیل کی کمی کی وجہ سے بحران پیدا ہوا، خوردنی تیل کی فراہمی کے لیے انڈونیشیا کے صدر سے بات کی تھی، وزارت صنعت اور وزارت خارجہ کے حکام نے اہم کردار ادا کیا، امید ہے کہ خوردنی تیل کی آمد کے بعد معاملات بہتر ہوجائیں گے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے بہت مشکل وقت میں حکومت سنبھالی، پچھلی نااہل حکومت کی وجہ سے ہمیں معاشی بحران ملا، معاشی بحالی کے لیے مشکل فیصلے کرنے پڑے تو کریں گے۔اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفت گو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا ہم نے دل پر پتھر رکھ کر پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ روک کر اور سبسڈی دے کر آنے والی حکومت کے لیے جال بچھایا، ہم عوام کوریلیف دینے کی کوشش کررہے ہیں اسی لیے دو ہزار روپے فی گھرانہ دے رہے ہیں تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ کم ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت مشکل وقت میں حکومت سنبھالی، پچھلی نااہل حکومت کی وجہ سے ہمیں معاشی بحران ملا، دنیا میں معاشی صورتحال بہت گھمبیر ہے، یہ مشکل وقت ضرور ہے لیکن ہم عوام کو ریلیف دینے کی بھرپور کوشش کریں گے لیکن معاشی بحالی کے لیے مزید مشکل فیصلے کرنے پڑے تو کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم آئندہ بجٹ میں عوام پر سے ٹیکس کا بوجھ مزید کم کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں