اقتدار میں واپسی کیلئے کسی غیر ملکی طاقت کو سپورٹ نہیں کرتا: عمران خان

اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ وہ اقتدار میں واپسی کے لیے کسی غیر ملکی طاقت کو سپورٹ نہیں کرتے۔غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دو حکمران خاندان قانون کی حکمرانی میں آنے سے انکاری ہیں، انہیں قانون کے زمرے میں لانا سب سے بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک مسئلہ ہے، وہ ہےکشمیر، مسئلہ کشمیرکےحل کے لیے پُرعزم قیادت کی ضرورت ہے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومتوں کوکرپشن کی وجہ سےنکالاگیا لیکن ہماری واحد حکومت ہے جس پرکرپشن کاالزام نہیں جب کہ موجودہ حکمران معیشت کا روڈ میپ دینے کے بجائے خودکوکرپشن سے بری کررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اقتدارمیں واپسی کےلیے کسی غیر ملکی طاقت کو سپورٹ نہیں کرتا۔
عمران خان کا کہنا تھاکہ دنیا کو سمجھ لینا چاہیے کہ طالبان حقیقت ہیں اور دنیا کو طالبان کےساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں معاشی طور پر روس کی ضرورت تھی، ہمارا سب سے بڑا مسئلہ معیشت کا ہے جسے بہتر کرنا ہوگا۔یہ بات انہوں نے غیرملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کے خلاف سازش ہوئی جو22کروڑ افراد کے لیے باعث شرمندگی ہے کہ ایک منتخب وزیراعظم کو سازش کے ذریعے ہٹایا گیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں جب بھی پاکستان میں حکومتیں ہٹائی گئیں ان کی وجہ کرپشن تھی، پہلی بار جب حکومت کو ہٹایا گیا تو کسی کیخلاف کرپشن کے مقدمات نہیں تھے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ جب سے ہمیں ہٹایا گیا تب سے ملک کی معیشت کافی حد تک نیچے آگئی، ہم جمہوری اداروں کومضبوط کرنے کے عمل میں ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی نے دورہ روس کے حوالےسے بتایا کہ روس کا دورہ پہلے سے ہی طے تھا، تمام اسٹیک ہولڈرز چاہتے تھے کہ ہمارے روس سے تعلقات بہتر ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں معاشی طور پر روس کی ضرورت تھی، ہمیں روس سے گیس, آئل اور گندم چاہیے تھی، روس سے ہمیں تیل 30 فیصد رعایت پر مل رہا تھا، مجھے نہیں پتا تھا ہمارے روس پہنچے کے اگلی صبح ہی تنازع شروع ہوجائے گا۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کا اس وقت سے بڑا معاشی مسئلہ ہے ہمیں وہ بہتر کرنا ہوگا، پاکستان اور بھارت کے درمیان واحد تنازع کشمیر کا ہے، بھارت نے2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔عمران خان نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جو بھی واقعہ ہوتا ہے بھارت پاکستان پر الزام لگاتا ہے، پاکستان پر الزام عائد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، عالمی قرارداد کے مطابق کشمیریوں کو حق دینا ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں