ادویہ ساز کمپنیوں نے مارکیٹ میں دواؤں کی قلت کا خدشہ ظاہر کردیا

اسلام آباد: پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے خام مال پر سیلز ٹیکس ختم نہ کیے جانے پر دواؤں کی مارکیٹ میں قلت کا خدشہ ظاہر کردی.اوفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی پی ایم اے محمد منصور دلاور نے کہا کہ خام مال پر 17 فی صد سیلز ٹیکس ختم کیا جائے یا پھر زیرو ریٹنگ پر لائا جائے۔ انہوں نے طے شدہ ایکٹ کے مطابق تمام جمع شدہ ٹیکس فاسٹ ٹریک پر واپس کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ کئی بار آگاہ کرنے کے باوجود دوا ساز کمپنیوں کے مسائل بدستور برقرار ہیں۔ حکومت نے 17 فی صد سیلز ٹیکس کا تاحال خاتمہ نہیں کیا جب کہ سیلز ٹیکس کی مد میں 40 ارب روے بھی واپس نہیں کیے گئے۔
چیئرمین پی پی ایم اے نے کہا کہ خام مال 6 ماہ سے ایک سال کے دوران استعمال ہوتا ہے، جس کی وجہ سے کیش فلو کے مسئلے کے باعث 40 ادویات کی مارکیٹ میں قلت پیدا ہو چکی ہے ۔ عالمی سطح پر ادویات کی خام مال کی قیمتوں میں 3 گنا اضافہ ہو چکا ہے، 95 فی صد خام مال درآمد کیا جاتا ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں ادویات کی قلت بڑھنے کا خدشہ ہے۔پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے چیئرمین نے کہا کہ ادویات کی قلت پیدا ہوئی تو ادویات کی درآمدات کرنے کے ساتھ ادویات کی اسمگلنگ بھی بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پورے خطے میں ادویات کی قیمتیں پاکستان میں کم ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں