آئی ایم ایف نے 440 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کا کہا ہے، اصل بجٹ اب آئے گا، شوکت ترین

عمران خان کے دور میں وزیر خزانہ رہنے والے سینیٹر شوکت ترین کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت کو 440 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کا کہا ہے، اصل بجٹ اب آئے گا۔
سینیٹ اجلاس میں شوکت ترین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک اور بجٹ آرہا ہے، آئی ایم ایف نے انہیں کہا ہے کہ 440 ارب روپےکےاضافی ٹیکس لگانے ہیں، وہ اصل بجٹ ہو گا، سینیٹ نے خانہ پوری بجٹ پر بحث کی ہے۔شوکت ترین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے وقت میں تو لوڈ شیڈنگ نہیں تھی۔ حکومتی رہنماؤں کی پریس کانفرنس پر سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کا بھی ردعمل آگیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے پیٹرول پر زیرو ٹیکس رکھا تھا اب یہ 17فیصد سیلز ٹیکس لگائیں گے، یہ لوگ پیٹرول پر ساتھ میں 50روپے لیوی بھی لگانے جارہےہیں اس اقدام کے نتیجے میں مہنگائی نیچے نہیں آئے گی مزید بڑھے گی اور ڈسکاؤنٹ ریٹ اوپر جائیگا۔
قبل ازیں سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل اور وزیراطلاعات مریم اورنگزیب کی نیوز کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ حکومتی وزرا کی جانب سے عمران خان کی سابقہ حکومت پر بارہا الزام عائد کیا گیا کہ پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، اس طرح کے گمراہ کن بیانات دیکر مفتاح اسماعیل کسے بے وقوف بنا رہے ہیں؟شوکت ترین نے کہا کہ پوری قوم گواہ ہے کہ اکنامک سروے پر آپ نے دستخط کئے، آپ نے خود بتایا کہ جی ڈی پی ،زراعت میں سستا ہوا، ہم نے 486ارب روپے کا فارمولہ آپ کو بتایا جسے اب آپ استعمال کررہے ہیں۔
سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ان کو اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے کڑے فیصلے لینا پڑے، روپیہ آپ کی نالائقی کی وجہ سے نیچے آیا،صورت حال یہ ہے کہ ہم نے آٹا 55روپے رکھاتھا،اسوقت یوٹیلیٹی سٹورز پر وہ 80روپے کا مل رہا ہے، ہمارے دورمیں یوٹیلیٹی سٹورز پر چینی 70 روپے سے بھی کم تھی۔
شوکت ترین نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر آپ ان لوگوں پر ٹیکس لگارہےہیں جو پہلے سے ٹیکس ادا کررہے ہیں ، ابھی بھی 43 ملین لوگ ایسے ہیں جو ٹیکس ادا نہیں کررہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں