منشیات کے مقدمے میں سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری ہوسکتی ہے، سپریم کورٹ

پشاور: سپریم کورٹ نے انسداد منشیات خیبر پختون خوا ایکٹ 2019ء کی شق 27 کی تشریح کرتے ہوئے منشیات کے مقدمے میں سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری کی اجازت دے دی۔سپریم کورٹ نے انسداد منشیات کے پی ایکٹ 2019 کی شق 27 کی تشریح کردی۔ جسٹس یحییٰ آفریدی کا چھ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا گیا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق منشیات کے مقدمے میں سرچ وارنٹ کے بغیرگرفتاری کی جاسکتی ہے۔ سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری کی دلیل پر ٹرائل روکا جاسکتا ہے اور نہ ہی سزا ختم کی جاسکتی ہے۔ سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری کے سبب کسی ملزم کو بری نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم سید زوالفقار علی شاہ نے ضمانت کیلئے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ملزم کو چرس فروخت کے الزام پہ گرفتار کیا گیا۔
ملزم نے اپنے دفاع میں موقف اختیار کیا کہ شق 27 کے تحت منشیات کے مقدمے میں اسپیشل جج کی جانب سے جاری سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری نہیں ہوسکتی۔ منشیات کے مقدموں میں ملزم کے غائب ہوجانے کے خدشے پر پولیس کو رسمی کارروائی میں نہ پڑنے کے عدالتی نظائر موجود ہیں۔سپریم کورٹ نے ملزم سید زوالفقار علی شاہ کی ضمانت کی درخواست خارج کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں