بھارت اور پی ٹی آئی ملکی سالمیت کے خلاف ایک پیج پر ہیں، احسن اقبال

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا طرز سیاست جمہوری نہیں،انتشار پھیلانا ہے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے لمز میں 2 روزہ “انٹرنیشنل کانفرنس آن گرین پروڈکٹیویٹی 2.0” کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا طرز سیاست جمہوری نہیں،انتشار پھیلانا ہے۔ بھارت اور پی ٹی آئی ملکی سالمیت کے خلاف ایک پیج پر ہیں۔

پاکستانی نوجوانوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو ماحول دوست ترقی میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ موسمیاتی خطرات سے بچا جا سکے ، گرین پروڈکٹیویٹی 2.0 ویژن کا مقصد پاکستانی صنعت کو نہ صرف ماحول دوست بنانا ہے بلکہ اسے عالمی مارکیٹ میں مسابقت کے قابل بھی کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت گرین منصوبوں کی تکمیل کے لیے ٹھوس اقدامات بروئے کار لا رہی ہے۔ یہ ملک خداداد ہمارا گھر ہے ، یہ ملک نہیں تو ہماری سیاست بھی نہیں ، اختلاف رائے جمہوریت کا حسن اور ملکی سیاست ایک خاندان کی طرح ہوتی ہے ، جس طرح ایک خاندان اور فیملی میں ہر فرد کی اپنی رائے و سوچ ہوتی ہے ، اسی طرح تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اختلاف رائے کا حق حاصل ہوتا ہے ، آپس میں اختلافات ہو جائیں تو ملک کے اندر رہتے ہوئے ان اختلاف کا ختم کرنا ہی جمہوریت کا حسن ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے بہت سخت مارشل لا کا سامنا کیا لیکن دونوں مارشل لائوں سے زیادہ جبر کا ہم نے بانی پی ٹی آئی کے دور میں سامنا کیا، ہم جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں بھی گئے، میڈیا پر بھی پابندیاں لگیں،اس سب کے باوجود اس سیاسی جنگ کو ہم نے ریاست کی حدود میں رہ کر لڑا،آج تک کسی جماعت نے بیرون ممالک جاکر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ اورپاکستان کو عالمی عدالتوں کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا۔

احسن اقبال نے کہاکہ جب بھی پاکستان کے عالمی برادری سے اچھے تعلقات کی کوشش ہوتی ہے تو اس کی تکلیف پی ٹی آئی اور بھارت کو ہوتی ہے ،ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، تو اس کی تکلیف پی ٹی آئی اور بھارت کو ہوتی ہے ،اگر آئی ایم ایف کا پروگرام ہوتا ہے تو تکلیف پی ٹی آئی کو ہوتی ہے یا بھارت کو۔

وفاقی وزیر نے پاکستان میں گزشتہ ادوار میں سیلاب، زلزلہ اور دیگر قدرتی آفات کے باعث پیش آنے والے نقصانات کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ 2022 میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے ملکی معیشت کو 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ اڑان پاکستان اور ویژن 2030 کے تحت ہر شعبے میں جدید ترجیحات کو شامل کیا گیا ہے ۔

کانفرنس کا مقصد صنعتی شعبے میں کاربن اخراج میں کمی، گرین ہائیڈروجن کا کردار، ایشیا میں پائیدار وسائل کے استعمال کا فروغ، پائیدار ترقی کے لیے مالیاتی اداروں کی ذمہ داریاں وصنعتی پیداوار، مسابقت اور برآمدات میں اضافے کے لیے ماحولیاتی، سماجی اور گورننس فریم ورک کے نفاذکے حوالے سے علاقائی تعاون کو مضبوط بنانا، علم کے تبادلے کو فروغ دینا اور کم کاربن و پائیدار صنعتی ترقی کے نئے مواقع کو اجاگر کرنا تھا۔

کانفرنس سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں شرکاء میں سوینیئرز جبکہ لمز انرجی انسٹیٹیوٹ کے سینئر ایڈوائزر ڈاکٹر فیاض چوہدری نے وفاقی وزیر کو شیلڈ پیش کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں