7

سلیکون ویلی کا بکس ریسٹورنٹ جہاں ماضی کے معروف آئیڈیاز ساز نے قیام کیا

کیلی فورنیا:امریکی ریاست کیلیفورنیا کی سلیکون ویلی دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کا مرکز سمجھی جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک جگہ ہے بکس ریستوران، جوہے تو چھوٹا سا ریستوران لیکن اس میں بڑی بڑی چیزیں ہوئی ہیں۔اس ریستوران کو اتنا آئیکونک کیوں سمجھا جاتا ہے؟اس بارے میں ریسٹورنٹ مالک جیمِس کہتے ہے کہ بظاہر یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں لوگ ملتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں، گپ شپ کرتے ہیں۔ لیکن جیمِس نے ہمیں وہ میز دکھائی جہاں 90 کی دہائی میں اسٹیو جورویسٹن اور سبیر بھاٹیا نے بیٹھ کر ‘ہاٹ میل’ نامی مفت ای میل سسٹم بنانے کے آئیڈیا پر تبادلۂ خیال کیا تھا جسے بعد میں مائیکرو سافٹ نے اس وقت 400 ملین ڈالر میں خرید لیا تھا۔ایک ٹیبل پر مارٹن ایبر ہارڈ اور مارک ٹریپننگ نے ‘ٹیسلا’ کی بنیاد رکھی تھی۔ ‘ٹیسلا’ کمپنی کے آغاز کے وقت ایلنن مسک اس کا حصہ نہیں تھے جو اب کمپنی کے کرتا دھرتا ہیں۔ایک کونے میں میز پر ‘نیٹ سکیپ’ شروع کرنے کی بنیادی بات چیت ہوئی تھی جس کے آنے کے بعد انٹرنیٹ نے دنیا بھر میں انقلاب برپا کردیا تھا.ایک اور کونے میں ایک چھوٹی سی میز پر ‘پے پال’ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ جیمِس نے اس بارے میں ایک واقعہ بھی سنایا کہ اس وقت ‘پے پال’ کے لیے کام کرنے والا ‘کوڈر’ اس میز پر ہی کام کرتے کرتے سو گیا تھا.اور پھر یہیں ایک میز وہ بھی ہے جہاں بل گیٹس نے بیٹھ کر اپنے کھانے کے بل پر بحث کی تھی۔۔ وہ اس بحث کے بعد اپنا بل کم کرانے میں کامیاب ہوگئے .اسی طرح کی ایک تصویر ارب پتی وارن بفیٹ کی بھی ہے جس میں جیمِس ریستوران میں کھانے کے بعد مسٹر بفیٹ سے ان کے بٹوے کے بارے میں سوال کر رہے ہیں جو ظاہر ہے کہ کافی بھاری تھا کیوں کہ اس وقت وہ دنیا کے دوسرے امیرترین انسان تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں