7

بلین ٹری منصوبے میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں، آڈٹ رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا

پشاور:تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے گزشتہ دور میں شروع کیے گئے بلین ٹری منصوبے میں بڑے پیمانے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق محکمہ جنگلات میں مجموعی طورپر6 ارب روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں جبکہ بلین ٹری منصوبے میں 24 کروڑ 76 لاکھ روپے کی بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ زیادہ تر بے ضابطگیاں مہنگے پودے خریدنے اور مزدوروں کو نقد ادائیگیوں کی مد میں دیکھنے میں آئی ہیں۔ آڈیٹرجنرل آف پاکستان کی طرف سےمالی سال 2014 -15 کیلیے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بلین ٹری سونامی منصوبے میں پودوں کے حصول کےلئے ٹھیکے مبینہ طورپر میرٹ کے برعکس دیے گئے جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔نجی نرسریوں کےقیام کیلیے 40 لاکھ نوے ہزار روپے جاری کیے گئے جس میں 25 فیصد رقم پیشگی ادا کی گئی لیکن مقررہ وقت گزرنے کے باوجود نرسریوں کے قیام میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی جبکہ پیشگی رقم دینے کے لیے بھی کوئی ضمانت نہیں لی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نرسریوں کی موجودگی کے بارے میں یہ جانچ پڑتال بھی نہیں کی گئی کہ اصل میں نرسریاں وجود رکھتی بھی ہیں کہ نہیں۔رپورٹ کے مطابق ڈی ایف او سوات کے دفتر سے معلوم ہوا کہ بلین ٹری سونامی منصوبے کےتحت نرسریوں کیلئے کرائے پر حاصل کی گئی زمین زیادہ قیمت پر لی گئی۔ منصوبے کے پی سی ون میں نرسریوں کے قیام کےلئے فی کنال زمین کرائے پر حاصل کرنے کےلئے 6 ہزار روپے کی منظوری دی گئی لیکن یہ زمین10 سے 15 ہزار روپے فی کنال پر لی گئی جس سے قومی خزانے کو تقریباً تیس لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے تحت محکمہ جنگلات کے ایک مقامی دفتر کو تقریباً چار کروڑ 35 لاکھ روپے جاری کیے گئے جس میں تقریباً دو کروڑ بارہ لاکھ روپے ڈیلی ویجز مزدوروں کو ادا کیے گئے جبکہ باقی ماندہ رقم یوتھ نرسریوں کے قیام پر خرچ کیے گئے۔ مزدوروں کو اتنی بڑی رقم کی نقد ادائیگی خلاف قانون تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں