20 24

قبرستان کا ایسا احاطہ جہاں دہائیوں سے تدفین نہیں ہوئی

کراچی : پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کی بندرگاہ سے متصل گنجان آباد علاقے لیاری کے بیچوں بیچ واقع کچھی میمن قبرستان ایک احاطہ مخصوص مذہبی کمیونٹی کے لیے مختص ہے لیکن یہاں کئی دہائیوں سے کوئی تدفین کے لیے نہیں لایا گیا۔ کچھی میمن قبرستان کے بارے میں تو پورا کراچی جانتا ہے لیکن جس بات سے اس علاقے میں برسوں سے مقیم اکثر لوگ بھی واقف نہیں وہ یہ ہے کہ اس قبرستان کے اندر ایک احاطہ میں یہودیوں کی پرانی قبریں ہیں۔
قبرستان انتظامیہ اور گورکن کے مطابق یہ قبریں قیام پاکستان سے بھی پہلے کی ہیں اور گذشتہ کئی دہائیوں سے یہاں کوئی یہودی اپنے مردے دفنانے نہیں آیا۔لیاری میں واقع یہودیوں کے قبرستان میں واقع قبریں۔ گورکن شعیب نے میڈیا کو بتایا کہ ان کا خاندان پانچ پشتوں سے اس قبرستان کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ اس قبرستان میں موجود یہودیوں کی قبریں اس کے دادا اور پردادا کے ہاتھوں کی بنی ہوئی ہیں۔شہر کراچی میں یہودیوں کی موجودگی اوراس کی تاریخ میں ان کی شراکت داری کی یہ کوئی واحد نشانی نہیں۔ جدید کراچی کی تعمیر میں بھی یہودیوں کا حصہ ہے جس کی نشاندہی شہرکی بعض قدیم عمارتیں آج بھی کرتی ہیں۔قیام پاکستان سے قبل کراچی میں یہودیوں کی ایک متحرک کمیونٹی آباد تھی جو شہرکی آبادکاری اور فلاح وبہبود میں حصہ لیتی تھی۔ سنہ 1948 میں اسرائیل کے قیام اور اس کے بعد شروع ہونے والی عرب اسرائیل جنگ کے نتیجے میں پروان چڑھنے والے یہودی مخالف جذبات کی وجہ سے کراچی سے یہودیوں نے نقل مکانی کی۔ہجرت کرنے والے یہودیوں میں بیشتر وہ تھے جو یورپی ممالک سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے حلیے اور شکل سے بآسانی پہچانے جاتے تھے۔ تاہم جب سنہ 1950 کی دہائی میں حکومت نے شہریوں کی شناخت کے لیے مذہب کو لازمی قرار دے دیا توباقی یہودی بھی ایک ایک کرکے ملک چھوڑنے لگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں