229

طالبان سے مذاکرات پرتنقید، افغان مشیر قومی سلامتی امریکی دفتر خارجہ طلب

واشنگٹن:افغانستان میں قیامِ امن کے لیے امریکی حکومت کے طالبان کےساتھ ہونے والے مذاکرات پر افغان حکومت اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں ۔خبر رساں ادارے کے مطابق ایسا اس وقت ہوا جب ایک انتہائی اہم افغان حکومتی عہدیدار نے طالبان کےساتھ مذاکرات کرنے پر امریکی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تو جواباً امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنی ناراضی کا اظہار کرنے کیلئے انہیں طلب کرلیا۔ترجمان امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ رابرٹ پلاڈینو نے امریکی عہدیدار کی افغان حکومتی نمائندے سے ملاقات کے بعد بیان جاری کرتے ہوئے ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انڈر سیکریٹری برائے امورِ سیاسیات ڈیوڈ ہیل نے افغانستان کے مشیر قومی سلامتی حمد اللہ محب کو امریکا کی جانب سے مفاہمت کی کوششوں پر کیے گئے تبصرے پر اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں طلب کیا۔واضح رہے کہ حمد اللہ محب نے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ افغان وائسرائے بننا چاہتے ہیں اس لیے افغان حکومت کو کمزور کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں