57

جج ویڈیو اسکینڈل: کوئی شک نہیں اس معاملے میں غیر معمولی باتیں بھی ہیں، چیف جسٹس

اسلام آباد(جرات نیوز)چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جج ارشد ملک کے وڈیو اسکینڈل پر دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ آزاد لوگ خود کام کرتے ہیں کسی کے کہنے پر نہیں اور کمیشن بن بھی گیا تو اس کی رائے ثبوت نہیں ہو گی. جج کا معاملہ عدالت دیکھے گی، جو دھول اٹھ رہی ہے اسے چھٹنا چاہیے۔چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے جج ارشد ملک کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔دورانِ سماعت درخواست گزار اکرام چوہدری نے کہا کہ عوام کا عدلیہ پر احترام مجروح ہوا ہے۔ویڈیو اسکینڈل مزید سنگین ہوگیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے جج ارشد ملک کی خدمات لاہور ہائیکورٹ کے سپرد کرنے کاحکم دیدیا، وزارت قانون نے کام سے روک دیا.چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمیں ہدایت دینے کی ضرورت نہیں کہ تحقیقات کیسے ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس معاملے میں غیر معمولی باتیں بھی ہیں، سوال یہ ہے کہ تحقیقات کس طرح سے کی جائیں۔عدالتِ عظمیٰ نے ریمارکس دیئے کہ کہا گیا کہ ویڈیو کے معاملے پر از خود نوٹس لیں، لوگوں کے کہنے پر کوئی کام کریں گے تو کیا ہم آزاد ہوں گے؟سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ ازخود نوٹس کسی کے مطالبے پر لیں تو یہ از خود نوٹس تو نہ ہوا، جج کا معاملہ عدالت دیکھے گی، جو دھول بھی اٹھ رہی ہے اسے چھٹنا چاہیے۔
چیف جسٹس پاکستان نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ اصل معاملہ عدلیہ کی ساکھ ہے، لوگوں کو عدلیہ پر اعتماد نہیں ہوگا تو انصاف کیسے ہوگا، بنیادی مسئلہ ہی عدلیہ کے اعتماد کا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ اس معاملے کو دیکھنے کی ضرورت ہے، یہ معاملہ پہلے ہی ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، اگر سپریم کورٹ اس معاملے کو دیکھتی ہے تو اس کے کیا اثرات ہوں گے؟ ہمارے سامنے مسئلہ اور ہے کہ یہ معاملہ کس کو اور کب دیکھنا چاہیے۔عدالت نے کیس کی سماعت 23 جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا اور ان سے تجاویز طلب کر لیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت کے موقع پر سیکیورٹی کے خصوصی اقدامات کیے گئے تھے، عدالت کے احاطے اور ریڈ زون میں ایک ہزار اہلکار تعینات کیے گئے، جبکہ کمرۂ عدالت میں خصوصی پاسز کے ذریعے داخلے کی اجازت دی گئی جو ایس پی سیکیورٹی سے حاصل کیے جا سکتے تھے۔خصوصی پاسز کے حامل افراد کو بھی سیکیورٹی عملے نے تلاشی کے بعد سپریم کورٹ کی عمارت میں داخلے کی اجازت دی، کمرۂ عدالت میں موبائل فون اور کیمرہ لے جانے پر بھی پابندی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں