15

وہ قوم کہاں سو گئی؟

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے مزاحمت کرنے والے نوجوانوں سے انتقام لینے کے لیے ان کے گھر کی خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر ریپ کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایچ آر ڈبلیو کی انسداد تشدد خواتین کے عالمی دن کے موقع پر شائع ہونے والی رپورٹ میں ہوش ربا انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی تسلط کے خاتمے کے لیے سرگرم باغیوں کو سبق سکھانے اور حوصلہ شکنی کے لیے ان کے گھر کی خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کشمیری خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے بھارتی فوج کے اہل کاروں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جاتی۔ سیکیورٹی فورسز کے اہل کار قانونی چارہ جوئی نہ ہونے کی وجہ سے بے خوف ہوگئے ہیں اور جب خواہش ہوتی ہے کشمیری خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں۔رواں برس جولائی میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے بھی مقبوضہ کشمیر میں عصمت دری اور جنسی تشدد کے ساتھ ساتھ بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی دستاویزات اور شواہد پیش کئے تھے۔
واضح رہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے وادی بھر میں مسلسل لاک ڈاون ہے اور قابض بھارتی فوج نے ماورائے عدالت قتل، جنسی زیادتی، جبر اور ٹارچر سیل میں تشدد سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی سیاہ تاریخ رقم کردی ہے۔ ایک وقت تھا جب کشمیر کے مظلوم مسلمان بھائی بہن کسی بھی مشکل گھڑی میں امید بھری نظروں سے پاکستان کی جانب دیکھتے تھے اور مسلمان بھائیوں نے کبھی اپنے کشمیری بھائیوں کو مایوس نہیں کیا یہاں سے جوان اپنی زندگیاں ہتھیلی پر رکھ کر اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کو جاتے، یہ نہ صرف انسانی بلکہ الہی حکم بھی ہے کہ مسلمان ملتِ واحدہ ہیں اور ایک بھائی تکلیف میں ہو تو دوسرے بھائی پر اس کی مدد فرض ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ دنیا تجارت میں کھو گئی اور ہم ایٹمی تباہ کاریوں کے مفروضے میں کھو کر رہ گئے، آج چوتھا مہینہ ہورہا ہے کہ ہمارے کشمیری بھائی بہن کرفیو کے غیر قانونی عذاب اور کشمیری عوام آر ایس ایس کے فوجی وردیوں میں ملبوس غنڈوں کی غنڈہ گردی کا شکار ہیں، کشمیر میں اب ظلم کی انتہا کردی گئی ہے کہ معصوم بچوں کو فوجی اغوا کر کے لے جاتے ہیں اور پھر والدین کو یہ بھی نہیں بتاتے کہ انہیں کسی جیل میں رکھا گیا ہے یا کسی امیر گھرانے میں فروخت کرکے غلام بنادیا ہے، جو نوجوان آزادی کے لئے کوئی کوشش کرتے ہیں یا بھارتی فوجوں کی ریاستی دہشت گردی کے سامنے کسی قسم کی رکاوٹ بنتے ہیں ان کو گرفتار کر کے یا قتل کرکے ان کے گھروں میں جاکر ان کی خواتین کو انتقامی طور پر اجتماعی طور پر جنسی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، اور اس مکروہ اور نفرت انگیز جرم کے وقت وہ کسی قسم کی پردہ پوشی کی بھی زحمت نہیں کرتے اور دیگر بچوں کے سامنے ایک ذلت آمیز تماشا پیش کرتے ہیں۔
کشمیری حیران ہیں کہ پاکستانی قوم جو ایک آواز پر لبیک کہہ دیا کرتی تھی اور فوری طور پر ان کی مدد کو اُٹھ کر کمر باندھ لیتی تھی آج وہ قوم کہاں سو گئی، اور پاکستانی قوم کی جوان نسل بہن اور بھائی حیران ہیں کہ کیاہم ایک فرضی ایٹمی جنگ کی تباہی کے خوف کے حصار میں کھو کر اپنے کشمیری بھائیوں کو بھارتی آر ایس ایس کے غنڈوں کی دہشت گردی کے لئے چھوڑدیں گے، اگر پاکستان نے کوئی جوابی کارروائی کی تو کیا بھارت فوری طور پر ایٹمی جنگ شروع کردے گا اور کیا ایٹمی جنگ کی تباہی کی ذمہ داری تنہا پاکستان پر ہی عائد ہوگی اور اس تباہی کا صرف پاکستان ہی شکارہوگا؟ کہتے ہیں کہ اب ایٹمی اسلحہ اتنا تباہ کن ہے کہ اگر جنوبی ایشیا میں جوہری اسلحہ استعمال ہوگیا تو پوری دنیا اس کی تباہ کاریوں کا شکار ہوگی تو پھر ہم بحیثیت قوم کس خوف میں مبتلا ہیں اگر ایٹمی جنگ کی نوبت آبھی گئی تو عالمی برادری ہماری محبت میں نہیں لیکن اپنے تحفظ کے لئے تو ظاہر ہے کہ حرکت میں آئے گی لہٰذا اب ارباب حکومت ایٹمی تباہ کاریوں اور معاشی مشکلات کا خوف ترک کرکے اپنے مستحق کشمیری بہن بھائیوں کی مدد کو قدم آگے بڑھائیں جو اب ہماری جانب دیکھتے ہوئے اس سوچ میں پڑگئے ہیں کہ کیا سب کے کیا ہم کشمیریوں کے بے جان جسموں اور لٹی عصمتوں کے جنازے دفنانے کے لئے آئیں گے اور ان کی یہ سوچ مبنی بر حقیقت ہے آخر وہ کب تک ہماری راہیں تکتے رہیں کب تک بھارتی دہشت گردوں کی دہشت کے سائے میں زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹیں، جبکہ وہ تنہا نہیں ان کے ایک ارب سے زائد مسلمان بھائی پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، اور وزیراعظم عمران خان یقین رکھیں کہ وہ ایک قدم بڑھائیں گے تو پوری پاکستانی قوم کے ساتھ ساتھ دنیابھر کے دین دار اور انسان دوست مجاہدین ان کی مدد کو آگے آجائیں گے۔ وہ ایک بارہمت تو کرکے دیکھیں۔
مسئلہ صرف یہی نہیں کہ بھارت کے ہٹلر ثانی وزیراعظم مقبوضہ کشمیر میں ہی ظلم روا رکھ رہے ہیں بلکہ وہ پاکستان کو بھی اپنے ظلم کا شکار کررہے ہیں اور آئے دن کنٹرول لائن پر بلا اشتعال گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں اور تاک تاک کر ہماری شہری آبادی کو نشانہ بناتے ہیں جبکہ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق بھارتی فوجوں کی ریاستی دہشت گردی کی بنا پر نیلم جہلم پراجیکٹ کی تعمیر خطرے میں پڑ گئی ہے، اس ضمن میں قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ پلاننگ کا اجلاس ہوا جس میں نیلم جہلم پاور پراجیکٹ حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دی، پراجیکٹ ڈائریکٹرمحمد زرین نے کہا کہ نیلم جہلم پاور پراجیکٹ ایل او سی کے قریب ہے اور ایل او سی پر بھارت مسلسل گولہ باری کررہا ہے جس کی وجہ سے چینی کنٹریکٹرز نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کرنے کے لئے تیار نہیں۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ نیلم جہلم پاور پروجیکٹ کا کچھ کام ابھی باقی ہے، پروجیکٹ 70 ارب روپے سے شروع ہوا اور 520 ارب روپے کا ہوگیا، منصوبے پر 50 ارب روپے کا سالانہ قرضہ ہے اور ہرماہ قرض کی مد میں 2 ارب روپے سود ادا کیا جارہا ہے۔پراجیکٹ ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ حکومت کو 60 ارب روپے کی بجلی فراہم کرچکے ہیں، دسمبر کے بعد نیلم جہلم پراجیکٹ کے ملازمین کی تنخواہیں جاری نہیں کی جاسکیں، ملازمین کو تنخواہوں کے لئے بینک سے ایک ارب کا قرضہ لیا گیا ہے، ہمارے پاس تنخواہیں دینے کے لئے پیسے نہیں، وفاقی حکومت دسمبر تک رقوم ادا کرے۔
یہ نقصان ناقابل تلافی ہے ہمیں ہر قسم کے تحفظات کو تج کر اب ہمت مرداں مدد خدا کے قوم پر ایمان رکھتے ہوئے، دل سے ہر قسم کا خوف نکال کر نہ صرف اپنے ترقیاتی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے بلکہ ساتھ میں اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو بھارتی گستاپو یعنی آر ایس ایس سے تحفظ دینے کے لئے قدم آگے بڑھانا چاہئے، حکمران فکر نہ کریں ہمارے فوجی جوان خون حسین کی قسم کھاکر میدان میں اس عزم کے ساتھ اترتے ہیں کہ وہ بدرو حنین کی روایتیں قائم رکھیں گے اور یہ صرف عزم ہی نہیں ہوتا بلکہ اس پر عمل کرکے بھی دکھاتے ہیں۔ اب پانی سر سے گزر گیا ہے اور عمران خان کے پاس سوچنے مہلت نہیں بلکہ یہ وقتِ عمل ہے، اور عمل ہی زندگی کی علامت ہے، عمل سے ہی زندگی جنت بھی جہنم بھی، درست عمل کریں تو پھر جنت ہی جنت ہے اور اس وقت درست عمل آگے بڑھنا ہے ایٹمی تباہ کاریوں کے خوف سے سر جھکانے کا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں