82

بھارت تباہی کے راستے پر

بھارت کے صدر رام ناتھ کوونڈ نے پرتشدد مظاہروں کے باوجود پارلیمنٹ سے منظور متنازع شہریت ترمیمی بل کی توثیق کرتے ہوئے اسے قانون کی شکل دے دی ہے، بھارت کی 6 ریاستیں جن میں مغربی بنگال، مشرقی پنجاب، کیرالہ، مدھیا پردیش اورچھتیس گڑھ شامل ہیں نئی دہلی کے خلاف کھڑے ہوگئے، ان ریاستوں نے متنازعہ قانون کو اپنی اپنی ریاستوں میں نافذ نہ کرنے کا اعلان کردیا، انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل، جاپانی وزیراعظم کا دورہ ملتوی، بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امرندر سنگھ اور کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین نے بھی متنازع قانون کی مخالفت کردی ہے۔
ہم متعدد بار ان خدشات کا اظہار کرچکے ہیں کہ ہٹلر ثانی نریندر مودی منفی سیاست میں جس حدتک آگے بڑھ چکے ہیں اس کا منطقی نتیجہ یہی سامنے آئے گا کہ بھارت تقسیم سے قبل کے انداز میں چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہوجائے گا جبکہ اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والے کسی گنتی میں ہی شمارنہیں ہوں گے اور آج حالات تیزی کے ساتھ اسی ڈگر پر رواں نظر آرہے ہیں۔ جہاں تک نرنیدر مودی کی دہشت گرد حکومت کا تعلق ہے تو پہلے اس حکومت نے پاکستان کے خلاف ایسی پالیسیاں تشکیل دیں جن کی بنا پر ہمسایہ ملکوں کے تعلقات میں اتنی کشیدگی پیدا ہوگئی جس کے نتیجے میں ان کے درمیان کسی قسم کی بات چیت کا سلسلہ ہی ختم ہوگیا اور ماضی میں جودنیا دکھاوے کے لئے کچھ تھوڑا بہت لحاظ تھا وہ بھی ختم ہوگیا جبکہ ایٹمی قوت کی حامل دو ریاستوں کے درمیان ایسے مخدوش حالات پوری عالمی برادری کے لئے پریشان کُن ہوتے ہیں لیکن نہ جانے کیوں یہاں پاک بھارت کشیدگی پر ایسا محسوس ہوتا ہے گویا عالمی برادری کو سانپ سُونگھ گیا ہے۔
پہلے بھارت نے پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کیا، کنٹرول لائن پر آئے روز گولہ باری کا سلسلہ شروع کیا اور وہ بھی اس انداز میں کہ شہری آبادی کو نشانہ بنایاگیا، پھر عالمی سطح پر ہر محاذ پر پاکستان کی مخالفت کو اپنا معمول بنالیا، اس کے ساتھ رواں سال 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی آزاد حیثیت کو ختم کرنے اور بھارت میں شامل کرنے کے لئے غیر قانونی انداز میں بھارتی آئین میں ترمیم کردی گئی جو اس لئے غیر قانونی ہے کہ تقسیم کے طے شدہ اصولوں اور قوانین کے مطابق کشمیر کی کوئی بھی حیثیت بدلنے کے لئے بنایا گیا قانون کشمیر کی اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا جبکہ بھارتی آئین میں کی جانے والی ترمیم اور مقبوضہ کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی چونکہ کشمیر کی اسمبلی سے بالا بالا کی گئی ہے لہٰذا سراسر غیر قانونی ہے۔ اس اقدام پر پاکستانی میں جو مخالفت پائی جاتی ہے وہ تو ہے ہی بلکہ خود بھارت میں بھی اس ترمیم کے خلاف آراءپائی جاتی ہیں اور بھارت کے پڑھے لکھے اور صائب الرائے افراد مسلسل اس ترمیم کی مخالفت کرتے نظر آرہے ہیں، اس کے ساتھ ہی نریندر مودی نے آسام میں بیس لاکھ مسلمانوں کی شہریت ختم کردی جس پر وہاں کثیر آبادی میں اضطراب پیدا ہوگیا جبکہ نچلی ذات کے دلت ہندوﺅں کے خلاف بی جے پی کے دہشت گرد جس وحشیانہ انداز میں پیش آتے ہیں اس سے دلت ہندوﺅں میں بھی بھارت مخالف جذبات بھڑکنے لگے ہیں، اب ان کے ساتھ آسام کے بیس لاکھ مسلمان بھی شامل ہوجائیں گے جبکہ مشرقی پنجاب کی سکھ برادری بھی ان کے ساتھ ہم آوازہوگی کیونکہ سکھوں میں پہلے ہی آزاد خالصتان کی مہم چل رہی ہے اور سکھوں کی بھارت میں تعداد کم نہیں ہے، 2011ءکی مردم شماری کے مطابق، بھارت میں سکھ آبادی 2.08 کروڑ (20.8 ملین) ہے، یہ کل آبادی کا صرف 1.72% ہے، بھارت میں کل سکھ آبادی میں سے، 77% پنجاب میں رہتے ہیں۔ جہاں آبادی کا 58 فی صد سکھ ہیں، بھارتی ریاست پنجاب بھارت کی واحد ریاست ہے جہاں سکھ اکثریتی مذہب ہے۔اگرچہ سکھ بھارت میں اقلیت میں ہیں، لیکن سکھ برادری ملک میں اہم مقام رکھتی ہے۔ بھارت کے سابقہ چیف جسٹس جگدیش سنگھ کھیہر اور سابقہ وزیر اعظم بھارت منموہن سنگھ، اسی طرح بھارت کے سابقہ صدر ذیل سنگھ سکھ ہیں۔ بھارت میں وزرا کی تقریباً ہر کونسل نے سکھ نمائندوں کو شامل کیا ہے۔ سکھ بھارتی افواج میں بھی نمایاں ہیں، انہوں نے برطانوی دور میں تلوار بازی کی تشکیل دی۔ فائیو اسٹار بھارتی جنرل ارجن سنگھ سکھ تھے۔ سابقہ بھارتی چیف آف آرمی اسٹاف جے جے سنگھ سکھ تھے اسی طرح سابقہ سربراہ بھارتی فضائیہ، ایئر چیف مارشل دل باغ سنگھ بھی سکھ تھے۔ اس لحاظ سے سکھوں میں علیحدگی کی تحریک کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا بھارتی مقتدر حلقوں کی بدترین بھول ہوگی کیونکہ سکھوں کا تعلق صرف مشرقی پنجاب سے ہی نہیںبلکہ دوسری ریاستیں جہاں سکھوں کی قابل ذکر آبادی ہے ان میں چندی گڑھ کا یو ٹی (13.11%)، نئی دہلی (5.4%)، ہریانہ (4.91%)، اتار کھنڈ (2.34%)، راجستھان (1.27%)، جموں اورکشمیر (1.87%) اورہماچل پردیش (1.16%) شامل ہیں۔ اس طرح بھارت کی دہشت گرد قیادت جو ہٹلر کی پالیسی پر عمل پیراہے اب نہایت کٹھن مشکلات کا شکار ہونے والی ہے کیونکہ اس کی انسان دشمن پالیسیاں پورے بھارت میں ناپسندیدہ قرار پارہی ہیں، ریاست آسام کے شہر گوہاٹی میں کئی روز سے جاری احتجاج کے باعث جاپانی وزیراعظم شنزوآبے کا دورہ بھارت سکیورٹی وجوہات کی بناءپر ملتوی کردیا گیا ہے۔ گوہاٹی کے متعدد علاقوں میں انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود جمعہ کے روز ہزاروں لوگ جمع ہوئے اور پُرامن احتجاج کیا، تاہم اس دوران شہر کی بیشتر دکانیں اور پٹرول پمپ بند رہے، لیکن یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ پُر امن احتجاج کب تک پُرامن رہے گا جبکہ بھارتی حکومت خود عوام کو اشتعال دلانے میں مصروف ہے۔ حالات اس امر کے گواہ ہیں کہ بھارتی عوام کی اکثریت اس قانون کے خلاف ہے جبکہ اس کی حمایت میں صرف بی جے پی کے آر ایس ایس کے خیالات سے متاثرہ افراد ہیں جن کی تعداد انگلیوں میں گنی جاسکتی ہے۔ لہٰذا بھارت کی موجودہ قیادت جو ہٹلر کی فکر سے متاثر ہے اور آر ایس ایس کے انسانیت دشمن غنڈوں نے اسی انسانیت دشمن پالیسی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنارکھا ہے، وہ بہت جلد بھارت کے اکثریتی عوام کی نفرت کا نشانہ بننے والے ہیں جس کے نتیجے میں پھر بھارت میں علیحدگی پسندی پر مبنی تحریکیں زور پکڑیں گی اور بھارت چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں، آزادریاستوں اور رجواڑوں میں تقسیم ہوکر رہ جائے گا بالکل ایسے جیسے سوویت یونین تقسیم ہوا تھا۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہہ مسلم مخالف قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جھڑپوں کے دوران متعدد افراد ز زخمی ہوگئے، کئی شہروں میں موبائل اور انٹرنیٹ کی سہولت معطل رہی، احتجاج ملک کے شمال مشرقی علاقوں سے دیگر شہروں میں پھیل گیا ہے، نئی دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور پولیس نے ان پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔امرتسر میں مسلم مظاہرین نے جذبات کااظہار کیاجبکہ کولکتہ، کیرالا اور وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، واضح رہے کہ اقوام متحدہ اور امریکہ نے متنازعہ قانون کو مسلم دشمن قرار دے دیا ہے جس کے بعد احتجاج کرنے والے عوام کے حوصلے مزید بلند ہوگئے ہیں اب اگر بھارت کی ہٹلر ثانی حکومت نے عقل سے کام لیتے ہوئے مسلم دشمنی بر مبنی پالیسیوں کو ختم نہ کیا تو پھر بھارت کو ٹکڑے ہونے سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ بہتر ہے کہ نریندر مودی آر ایس ایس کے خیالات تج کر بھارت کی قیادت کریں ورنہ مقدر کا لکھا سامنے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں