suprem court 112

اصغرخان عملدرآمد کیس بند کرنے ایف آئی اے کی استدعا مسترد

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے اصغرخان عملدرآمد کیس میں ایف آئی اے کی رپورٹ مسترد کردی عدالت نے کیس بند کرنے کی ایف آئی اے کی استدعا مسترد کردی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالت اصغرخان کے اہلخانہ کے ساتھ کھڑی ہے،اصغرخان کی جدوجہد رائیگاں نہیں جائیگی۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے اصغرخان عملدرآمد کیس کی سماعت کی،چیف جسٹس پاکستا ن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اصغرخان کیس کی زندگی کا بڑا حصہ اس کیس میں گزرا،اصل تحقیقات کا وقت آیا تو رکاوٹیں کھڑی کر دیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایف آئی اے کہتا ان کے پاس شواہد نہیں ۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالت نے تاحال کیس بند نہیں کیا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عدالتی فیصلے پر عمل کرنے کا کوئی اورطریقہ ہے ؟وکلا معاونت کریں تحقیقات کیسے کرائیں ،عدالت کا مقصدصرف دو افسروں کیخلاف تحقیقات نہیں ۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالت اصغرخان کے اہلخانہ کے ساتھ کھڑی ہے،اصغرخان کی جدوجہد رائیگاں نہیں جائیگی،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جس فوجی افسر نے رقم تقسیم کرنا تسلیم کیا اس کا بیان نہیں لیاگیا ۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اصغرخان کیس کی ہر صورت ہونی چاہئے ،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت باضابطہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ 2011 میں اصغرخان کیس کا فیصلہ کیا ،فیصلے کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چودھری سے ملاقات کی اور اپنے چیف جسٹس کو کہا کیس کا فیصلہ تاریخی ہے.ہر ادارے کو سپریم کورٹ کے تابع کریں گے ،سیکرٹری دفاع آکر بتائیں تحقیقات میں کیا پیشرفت ہوئی،ہرادارہ سپریم کورٹ کو جوابدہ ہے ۔
ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ ایف آئی اے نے 10 سیاستدانوں سے تحقیقات کرنا تھیں ،10 میں سے 6 سیاستدان انتقال کر چکے ہیں ،بقیہ سیاسی رہنماﺅں نے رقم وصول کرنے انکار کیا۔سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کی کیس بند کرنے کی استدعا مسترد کردی اورسماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ،عدالت نے اصغرخان کے لواحقین کے جواب پر ایف آئی اے سے جواب طلب کر لیا، عدالت نے سلمان اکرم راجاکوعدالتی معاون مقررکردیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں