Chairman-Justice-r-Javed-Iqbal 131

قائدِ حزبِ اختلاف نیب میں آسکتے ہیں تو وزیراعظم بھی قانون سے بالاتر نہیں،چیئرمین نیب

لاہور:چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال کا کہنا ہےکہ اگرقائد قائد حزب اختلاف نیب کاسامنا کرسکتاہےتو قائد حزب اقتدار کو بھی کوئی ایسااستحقاق حاصل نہیں کہ وہ نیب کاسامنا نہ کریں۔لاہورنیب ہیڈ کوارٹر کے دورے کے موقع پر خطاب کرتےہوئےچیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال کا کہنا تھاکہ چینلوں اوراخباروں میں ہیڈ لائن تھی کہ نیب نے وزیراعظم کی توہین کر دی،بہت سادہ لوگ ہیں جنہوں نے لفظ توہین استعما ل کیا، یہ وزیراعظم کی توقیر اورعزت ہے کہ ان کا نام نیب میں ظاہرکیا گیا۔چیئرمین نیب نے کہا کہ اگر قائدِحزبِ اختلاف نیب کا سامنا کرسکتے ہیں تو قائد حزب اقتدار کو بھی کوئی ایسااستحقاق حاصل نہیں کہ وہ نیب کاسامنا نہ کریں، اگر قائد حزب اختلاف نیب میں آسکتے ہیں تو پھر وزیراعظم کیوں نہیں آسکتے، اس سے وزیراعظم کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے کہ وہ بھی قانون سےبالاتر نہیں،پاکستان میں قانون کی حکمرانی اورآئین پرعمل درآمد کیا جارہا ہے،عالمی سطح پراب یہ بھی تاثر ہے کہ پاکستان میں بدعنوانی کے خلاف سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔قومی احتساب بیورو کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے مینڈیٹ تھا کہ وہ ملک سے بدعنوانی ختم کریں گے یہ اس کےلئے پہلا قدم ہے جس طرف ہم بڑھے ہیں،میں نے پہلے روز کہا تھا کہ ہم نے اپنا کام آئین اور قانون کے مطابق کرنا ہے اور میں دوباہ کہہ رہا ہوں اس سے وزیراعظم کی توقیر اور قد و کاٹھ میں اضافہ ہوا ہے، اس سے پاکستان میں ہی نہیں بین الاقوامی طورپربھی پاکستان کی عزت ہوئی کہ پاکستان میں بدعنوانی کے خاتمے ا ور قانون کی عملداری پر کام ہورہا ہے۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب انتقام پر یقین نہیں رکھتا اور نہ ہی ذاتی جائیداد کے لئے کسی سے انتقام لے رہا ہے، یہ کہنا بھی درست نہیں کہ نیب کا جھکائو کسی پارٹی یا حزب اقتدار کے ساتھ ہے، حزب اقتدار سے نیب پر کوئی دبائو نہیں، اگر کبھی دبائو آیا بھی تو نیب دبائو کے آگے سرنگوں نہیں ہوگا، نیب کی وفاداری صرف پاکستان کے ساتھ ہے، اگر پاکستان سے متعلق بات آئے گی تو نیب اپنا کردار اداکرے گا۔چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے حزب اقتدار کو حزب اختلاف پر کسی قسم کی ترجیح دی ہو، ہمارے لئے تمام سیاستدان چاہے حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں برابر ہیں، حزب اختلاف کو یہ ضرورکہوں گا کہ انہیں کچھ باذوق ہونا چاہئے، نیب کو منشاءبم سے تشبیہ نہیں دی جانی چاہئے، نیب کبھی منشاءبم تھا اورنہ کبھی ہوگا، آپ اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ نیب ہائیڈروجن اور نائیٹروجن بم ہے جو صرف بدعنوانی کے خاتمے کےلئے آیا ہے۔جسٹس(ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب کااحتساب تو اسی دن شروع ہوجاتا ہے جب کوئی کیس احتساب عدالت میں دائر کر دیا جاتا ہے، ریمانڈ ہم نہیں لیتے ریمانڈ عدالت دیتی ہے اور اس کے لئے تمام ریکارڈ دیکھا جاتا ہے، ریکارڈ دیکھنے کے بعد ہی کارروائی ہوتی ہے تمام شہادتیں دیکھنے کے بعد کیس چلتا ہے، ہمارے ہاں ایسی کوئی بات نہیں جس میں انتقام یا زیادتی کا معاملہ پایا جاتا ہو، عدالتیں ہیں، ہائیکورٹ ہے سپریم کورٹ ہے، نیب کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کرتا، نیب کا ایک قانون ہے جس کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں