chines marriage case 14

چینی لڑکوں‌کی جعلی شادیاں، تحقیقات کا رخ تبدیل

لاہور: ایف آئی اے نے پاکستانی لڑکیوں سے چینی لڑکوں کی شادیوں کے معاملات پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ایف آئی اے نے لاہور چمبر آف کامرس سے ائیرپورٹ پر آن ارائیول ویزہ دینے والی کمپنیوں کا ریکارڈ طلب کر لیا۔ مختلف کمپنیوں نے چینی باشندوں کو آن ارائیول ویزہ دینے کی درخواست کی تھی اور انہی کمپنیوں کی درخواستوں پر چینی آئے۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے لاہور نے چیمبر آف کامرس کو مراسلہ بھجوایا ہے کہ ان کمپنیوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے جنہوں نے مختلف چینی کمپنیوں کے باشندوں کو آن ارائیول ویزا دینے کی درخواست کی تھی۔ ایف آئی اے نے 11 کمپنیوں کا ریکارڈ مانگا ہے جن کی درخواستوں پر چینی باشندے پاکستان آئے، ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ چینی شہری بزنس کے لیے آئے تھے یا ان کا مقصد صرف اور صرف شادی کرنا تھا۔ایف آئی اے کو کچھ ایسے شواہد ملے ہیں کہ چیمبر آف کامرس کے جعلی لیٹرز پر بھی چائنیز کو بلایا گیا ہے۔ لاہور ائیرپورٹ پر جن چائنیز کو آن ارائیول ویزہ جاری کیے گئے ان کی تعداد سو سے زائد ہیں۔دوسری جانب ایف آئی اے کی تحقیقات میں ایسے شواہد نہیں ملے کہ لڑکیوں سے شادی کے بعد ان سے غیر اخلاقی کام کرائے گئے یا ان کے جسمانی اعضاء نکالے گئے۔ جتنی بھی شادیاں ہوئی وہ لڑکی اور ان کے والدین کی مکمل رضامندی سے ہوئی۔ شادیوں سے قبل اور بعد بھی لڑکیوں کے والدین کو بھاری رقم ادا کی گئی، تاہم کچھ لڑکیوں کے والدین نے شکایت کی ہے کہ ان کی لڑکیوں کے ساتھ غیر اخلاقی کام ہوئےادھر چین نے بھی پاکستان سے چینی باشندوں کو ویزا جاری کرنے کی پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر زور دیا ہے تاکہ وہی لوگ چین سے آئیں جو یہاں کاروباری معاملات طے کرنا چاہتے ہیں جو کسی اور کام کے لیے آئے اس کی مکمل چھان بین کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں